حکومت کے ساتھ بیٹھ کر معاشی پالیسی پر بات کرنے کو تیار ہیں: آصف زرداری

اسلام آباد(پبلک نیوز) سابق صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ مجھے پکڑنے سے فرق نہیں پڑے گا، عام آدمی خوف زدہ ہے کہ آصف زرداری پکڑا جا سکتا ہے تو ہمارا کیا ہو گا۔ حساب کتاب بند کر کے آگے کی بات کی جائے؟ ایسا نہ ہو مہنگائی سے تنگ عوام نکل آئیں اور سیاسی جماعتیں پیچھے رہ جائیں۔

 

گزشتہ روز پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے بعد نیب ٹیم آصف علی زرداری کو لے کر پارلیمنٹ ہاؤس پہنچی، سابق صدر کو سارجنٹ ایٹ آرمز کے حوالے کیا گیا۔ آصف زرداری کے صاحبزادے بلاول بھٹو نے استقبال کیا۔ قومی اسمبلی سے اظہار خیال کرتے ہوئے سابق صدر نے کہا کہ مجھے پکڑنے سے فرق نہیں پڑے گا، عام لوگ خوفزدہ ہوتے ہیں کہ آصف زرداری پکڑے جا سکتے ہیں، تو ہمارا کیا بنے گا، حساب کتاب بند کر کے آگے کی بات کی جائے، جو طاقتیں حکومت لاتی ہیں، انہیں سوچنا ہو گا۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بی بی کی شہادت کے بعد پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا، اپنے 5 سالہ دور میں کسی سیاستدان پر ہاتھ نہیں ڈالا۔ ن لیگ کے بعد پیپلزپارٹی نے بھی حکومت کے ساتھ اکنامک پالیسی پر مذاکرات کی خواہش کا اظہار کر دیا، حکومت کے ساتھ بیٹھ کر معاشی پالیسی پر بات کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بجٹ ان کا بنایا ہوا نہیں ہے، بجٹ اچھا ہے تو سب رو کیوں رہے ہیں؟ ایسا نہ ہو مہنگائی سے تنگ عوام نکل آئیں اور سیاسی جماعتیں پیچھے رہ جائیں۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں