وزیر اعلیٰ ہاؤس سندھ کی آڈٹ رپورٹ میں اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

کراچی (پبلک نیوز) آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ میں سندھ وزیر اعلی ہاؤس سے جاری فنڈز میں اربوں روپے کی بے ضابطیگیوں کا انکشاف، ترقیاتی فنڈز بغیر کسی حساب کے جاری کیے گئے، جبکہ وزیراعلی ہاؤ س کے 178.686 ملین کے ریکارڈ پر بھی آڈیٹر جنرل نے شکوک ظا ہر کیے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 2018/17 کی رپورٹ میں وزیر اعلی ہاؤس سندھ میں اربوں روپے کے فنڈز میں خرد برد کا انکشاف کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس نے سال17۔ 2016 کے لیے مجموعی طور پر 11 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد کابجٹ مختص کیا۔

رپورٹ کے مطابق مختص رقم میں سے 5 ارب58 کروڑ7 لاکھ 18 ہزار روپے خرچ ہو سکے۔ بجٹ کی باقی رہ جانے والے 43 کروڑ 53 لاکھ13 ہزار روپے کا ریکارڈ ہی موجود ہی نہیں۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس سندھ کے 686.178ملین روپے کے رکارڈ پر بھی آڈیٹر جنرل نے شکوک ظاہر کیے ہیں۔

86.178 ملین روپے تربیت حاصل کرنے والے یوتھ پروگرام کے لیے گرانٹ کے طور پر سال17۔ 2016 میں جاری کیے۔ 178 ملین روپے تعمیر بینک سے جاری کیے گئے، جس کی رسید بھی جمع نہ کرائی گئی۔ مارچ 2016 میں جاری کیے گئے 15 ملین روپے کا بھی رکارڈ مہیا نہ کیا گیا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2012 سے 2016 تک ایک ہزار ملین روپے پیپلز ہاؤسنگ سیل کے لیے جاری کیے گئے اور انکا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بینظیر ہاؤسنگ سیل کے لیے دوسری بار 458.26 ملین روپے جاری کیے گئے اور اس رقم سے اضافی اخراجات بھی کیے گئے۔ 279.34 ملین روپے گاڑیوں کی مرمت کے لیے جاری کیے گئے جن کا ریکارڈ غائب ہے۔

349.23 ملین کی 4 گاڑیاں فنڈ سے خریدی گئیں جن میں سے فارچیونرگاڑیاں جی ایس ای 560 اور 561 شامل ہیں جبکہ 2 کلٹس جی ایس ڈی 575 اور 576 بھی خریدی گئیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق خیرپور کے دیہہ لقمان میں 962.17709 ملین روپے کے ڈیویلپمنٹ فنڈ جاری کیے گئے جس میں ٹھیکیدار بنام ریلیئنٹ ٹریڈ لنک نے کام بھی مکمل نہ کیا۔ 036.13 ملین روپے سے مشینری، فرنیچر مرمت اور ہارڈ ویئر کا سامان خریدا گیا۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں