شریف برادران کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں بڑی پیش رفت

لاہور(شاکر اعوان) شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ نیب لاہور نے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کی فیکٹریوں کے ملازمین کا ریکارڈ حاصل کر لیا ہے، دونوں بھائیوں نے اپنے ملازمین کے نام پر بھی اکاؤنٹ بنا رکھے ہیں، جن کے ذریعے اربوں روپے کی ٹرانزیکشن کی جاتی رہی ہیں۔

 

ریٹرھی بان، مزدور اور چپڑاسی کے اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپوں منتقل کیے جانے کے انکشافات کے بعد نیب نے شریف گروپ آف انڈسٹریز کے ملازمین کی مکمل لسٹ طلب کر لی ہے۔ نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نے اپنے ملازمین کے نام پر اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں۔ نیب لاہور نے شریف ڈیری فامز، رمضان شوگر مل اور چیواٹ انرجی لمیٹڈ کے ملازمین کا ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے۔

 نیب نے رمضان شوگر ملز کے چپڑاسی مقصود سے متعلق ٹھوس شواہد حاصل کر لیے ہیں۔ چپڑاسی کے اکاؤنٹ میں 3 ارب 30 کڑور سے زیادہ کی رقم جمع کروائی گئی ہے۔ نیب ذرائع کے مطابق رمضان شوگر مل کے ملازم ملک مقصود کرایے کے مکان میں رہتا ہے۔ نیب کے مطابق چپڑاسی بیرون ملک فرار ہو چکا ہے۔

 

نیب ذرائع کے مطابق بےنامی اکاؤنٹس کی زیادہ تر تعداد نجی بینکس کی مسلم ٹاؤن برانچ میں ہیں، مسلم ٹاون برانچ سے بھی ملازمین کا ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔ ابھی تک 300 اکاونٹس سامنے آئے جن میں مشکوک ٹرانزیکشن ہوئیں۔ رمضان شوگر مل شریف فیڈ ملز کے ملازمین پر بھی اکاونٹ بنائے گئے۔ فضل داد عباسی بے نامی اکاؤنٹس میں رقوم جمع کراتا تھا۔ چیف فنانشل آفیسر شریف گروپ آف کمنیز محمد عثمان کی ہدایات پر رقم ملازمین کے اکاونٹس میں منتقل ہوتی تھیں۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں