بحریہ ٹاؤن کیس: سپریم کورٹ نے 350 روپے ارب کی پیشکش مسترد کر دی

اسلام آباد (امجد بھٹی) سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس میں 350 ارب کی پیشکش مسترد کر دی۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیئے کہ یہاں کوئی ٹماٹر نہیں بک رہے۔ 315 ارب روپے تو صرف 7068 ایکڑ کے بنتے ہیں۔ عدالت سروے جنرل آف پاکستان، نیب اور بحریہ ٹاؤن کے نقشوں میں تضاد پر برہم ہو گئی۔

 

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن کراچی عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔ عدالت سروے جنرل آف پاکستان، نیب اور بحریہ ٹاؤن کے نقشوں میں تضاد پر برہم ہو گئی۔ سروے جنرل آف پاکستان کو دو ہفتوں میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

ڈائریکٹر سروے جنرل آف پاکستان کراچی کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی میں سرکاری زمین پر قبضہ کے حوالے سے غلط بیانی کر رہا ہے۔ بحریہ ٹاؤن کا مجاز ڈیلر پر زم حد بندی سے باہر زمین فروخت کر رہا ہے عدالت نے اگلی سماعت پر پرزم کے مالک کو طلب کرلیا۔

 

جسٹس عظمت سعید نے کلکٹر ریونیو کو دو ہفتوں کے بعد عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ لوگ سرکاری زمین کی حفاظت نہیں کر سکتے تو نیب کیس  بھگتنے کو تیار رہیں۔ حد بندی سے باہر زمین بیچی گئی ہے تو پولیس مقدمات درج کرے۔

 

عدالت نے 16896 ایکڑ کے عوض بحریہ ٹاؤن کی 358 ارب کی پیشکش کو مسترد کر دیا۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے 2014 میں عدالت نے 7 ہزارایکڑ سرکاری زمین کے نرخ 225 ارب روپے طے کیے تھے اس میں 40 فیصد اضافہ کریں تو 315 ارب روپے بنتے ہیں۔

وکیل صفائی بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ مؤکل 16896 ایکٹر زمین کے عوض زیادہ سے زیادہ 350 ارب روپے دے سکتا ہے۔

 

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ 315 ارب روپے صرف 7068 ایکٹر کے بنتے ہیں یہاں کوئی ٹماٹر نہیں بک رہے۔ عدالت کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ سماعت پر نیب، وفاق اور سندھ حکومت کا مؤقف سن کر فیصلہ کریں گے۔ بعد میں سماعت 29 جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔

حارث افضل  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں