آصف زرداری کی ضمانت قبل ازگرفتاری کیلئے دائر درخواستوں پر ضمانت منظور

اسلام آباد(فیصل ساہی) سابق صدر آصف زرداری کی تمام کیسز میں ضمانت ہو گئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے مزید دو درخواستوں پر بھی فیصلہ سنا دیا، سابق صدر کی ضمانت میں بائیس مئی تک توسیع بھی ہو گئی۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے طلبیوں اور ضمانتوں کا سیلاب آ رہا ہے۔

 

سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستوں پر سماعت، جسٹس عامر فاروق اور محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ آصف زرداری اور فریال تالپور عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈوکیٹ فاروق ایچ نائیک آصف زرداری اور فریال تالپور کی جانب سے پیش ہوئے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔ فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ نئے نئے طلبی کے نوٹس آ رہیں ہیں۔

 

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ مقدمات بہت زیادہ ہو گئے ہیں، ان کی مکمل فہرست تیار کی جائے، تمام درخواستوں کو ترتیب دیا جائے، انہوں نے سوال کیا کہ ضمانت کی نئی درخواستوں پر جواب کے لئے نیب کو کتنا وقت چائیے؟ نیب پراسیکیوٹر نے موقف اختیار کیا کہ ملزم ہر آئے روز نئی درخواست لے آتے ہیں، نیب نے استدعا کی کہ جن درخواستوں پر جواب آچکا ہے، ان پر عدالت پہلے فیصلہ سنائے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیئے کہ یہ تو لگتا ہے طلبیوں اور ضمانتوں کا سیلاب آرہا ہے۔

 

عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کی ضمانت قبل ازگرفتاری کے لئے دائر دونوں درخواستوں پر پانچ پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی ۔ آصف زرداری کو پارک لین اور اوپل دو سو پچیس کیس میں بارہ جون تک ضمانت میں توسیع مل گئی۔ عدالت نے نیب کو دونوں درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ سابق صدر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ضمانت ان کا جمہوری حق ہے۔ فریال تالپور کی بھی تمام انکوائریز میں ضمانت قبل از گرفتاری منظور کر لی گئی۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں