بچوں سے زیادتی و قتل کے واقعات، سابق حکومت کی کارکردگی کا بھانڈہ پھوٹ گیا

قصور (پبلک نیوز) شہر میں بچوں بچیوں کے ساتھ ذیادتی کے بعد قتل کے لرزہ خیز واقعات کا سلسلہ تھم نہ سکا۔ حسین والا میں بدفعلی ملزم اور زینب کے  قتل کو سر عام پھانسی دی جاتی تو شاید حالات بہتر ہوتے سابقہ حکومت اور پنجاب پولیس کی ناقص کارکردگی کا قصور کے رہائشیوں نے بھانڈہ پھوڑ دیا۔

قصور ولیوں کا شہر جہاں پر سابق حکومت نے حسین والا میں سو سے زائد بچوں کے ساتھ بدفعلی کے واقعات کے بعد امن و مان کی صورتحال پر قابو پانے کے دعوے تو بہت کیئے مگر پنجاب پولیس کے افسران نے بھی یہاں کے عوام کو ایسے واقعات کی روک تھام کی یقین دہانیاں کرائیں مگر ان واقعات کے بعد ایک اور لرزہ خیز واقعہ پیش آیا۔ زینب کو زیادتی کے بعد بیدردی سے قتل کر دیا گیا،جبکہ مزید آٹھ بچیوں کو اسی طرح زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، جوکہ پنجاب حکومت اور پولیس کی ناکامی کی زندہ مثال ہے۔ زینب کے والد امین انصاری اور رہائشیوں کا کہنا تھا کہ اگر ملزم کو سر عام پھنسی اور سزائیں دی جاتی تو دوبارہ ایسے واقعات پیش نہ آتے جس وجہ سے آج بھی لوگ خوف وہراس میں مبتلا ہیں۔

شہریوں کا کہنا تھا کہ قصور کے رہائشی ن لیگ سے تنگ آگئے ہیں یہاں پر ن لیگ کے نمائندوں نے بھی کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ سب صرف ووٹ لینے کے لیے آتے ہیں۔ ایسے واقعات حکومت اور پولیس کی ناکامی ہیں، اس الیکشن میں یہاں کی عوام نے ان کو مسترد کر دیا ہے۔

علاوہ ازیں ڈی پی او قصور منتظر مہدی کا کہنا تھا کہ زینب قتل کیس کے بعد پولیس نے ریکارڈ یافتہ اشتہاریوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔ افسران کے ساتھ  میٹنگز کیں علماء کرام کو بھی اعتماد میں لیا، اب حالات بہتر ہو رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق قصور شہر میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اداروں اور حکومت کو ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جس سے عوام کے جان و مال اور بچیوں کی عزتوں کو محفوظ بنانے میں مدد مل سکے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں