مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کیلئے ملکی معاشی صورتحال کو ٹریک پر لانا بڑا چیلنج

اسلام آباد(پبلک نیوز) مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کیلئے ملکی معاشی صورتحال کو ٹریک پر لانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے، مشیر خزانہ بننے والے ڈاکٹر حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ حفیظ شیخ ورلڈ بینک کی جانب سے 21 ممالک میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔

 

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں کر دی گئی، وزیر خزانہ اسد عمر کے وزارت خزنہ چھوڑنے کے بعد ان کی جگہ پر ڈاکٹر حفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کیا گیا، ملکی معاشی صورتحال کو ٹریک پر لانا ڈاکٹر حفیظ شیخ کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر کی جگہ مشیر خزانہ بننے والے ڈاکٹر حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وزیر خزانہ رہ چکے ہیں۔ حفیظ شیخ ورلڈ بینک کی جانب سے 21 ممالک میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔


یاد رہے کہ مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ سندھ کے علاقے جیکب آباد میں پیدا ہوئے، حفیظ شیخ کے والد عبدالنبی شیخ پیپلز پارٹی کے بانیوں میں سے تھے۔ حفیظ شیخ اقتصادی پالیسی سازی کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ حفیظ شیخ 2012 میں پیپلزپارٹی کی طرف سے سینیٹر منتخب ہوئے۔ حفیظ شیخ 2010 سے 2013 تک پاکستان کے 20ویں وزیر خزانہ رہے۔2000ء سے 2002 تک سندھ حکومت میں بھی وزیر خزانہ اور وزیر منصوبہ بندی رہے۔ سال 2003ء سے 2006 تک وفاقی وزیر نجکاری اور سرمایہ کاری کا قلمدان بھی حفیظ شیخ کے پاس رہا۔

 

حفیظ شیخ کے وزارت کے دوران 5 ارب ڈالر کی 34 نجکاری کی ٹرانزیکشنز بھی ہوئیں۔ حفیظ شیخ نے امریکہ کی بوسٹن یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ حفیظ شیخ ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر بھی رہ چکے ہیں۔ 1990 کے عشرے میں حفیظ شیخ سعودی عرب میں ورلڈ بینک کے ڈائریکٹر اکنامک آپریشن بھی رہ چکے ہیں۔ حفیظ شیخ ورلڈ بینک کی جانب سے 21 ممالک میں خدمات سر انجام دے چکے ہیں۔ سال 2014 سے حفیظ شیخ امریکہ میں سرمایہ کاری فنڈ کی ایک تنظیم سے منسلک ہیں۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں