وفاقی حکومت کا منی بجٹ، پراپرٹی ڈیلرز کو بڑا جھٹکا

اسلام آباد(پبلک نیوز) کمرشل اور گھریلو جائیدادوں پر لگے نئے ٹیکس سے رہائشگاہیں، پانچ سے بارہ، کمرشل تین لاکھ سے 15 لاکھ فی مرلہ مزید مہنگی ہو گئیں ہیں۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والوں کا احتجاج کرنے کا فیصلہ۔

 

تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے لگائے گئیں نے ٹیکس کے سبب رئیل اسٹیٹ کا کاروبارختم ہو کر رہ گیا، بورڈ آف ریونیو نے یکم جنوری تک دائر رجسٹریوں پر بھی نیا ٹیکس عائد کر دیا ہے، رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے والوں نے ٹیکس کو مسترد کر دیا اور نئے عائد ٹیکسس کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

 

وفاقی حکومت کے منی بجٹ کے حوالے سے اعلان کے بعد جائیداد کی قیمتوں میں عائد ٹیکس کے باعث گھریلو اورکمرشل پراپرٹیز کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ،نجی ہاؤسنگ سکیموں اوررئیل سٹیٹ کا کاروبار جو نئی حکومت میں شدید متاثر ہوا ہے مزید ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ پنجاب بھر میں رجسٹری برانچوں کا مطلوبہ ٹارگٹ آدھے سے بھی کم ہوکر رہ گیا ہے۔

 

ایف بی آر کے نئے عائد کردہ ٹیکس سے مختلف رہائشی و کمرشل جائیدادوں کی موجودہ قیمتوں چار سے 18 لاکھ روپے فی مرلہ اضافہ ہو گیا، نیو انارکلی بازارکی پرانی قمیت1931930فی مرلہ تھی جو اب2318316 روپے ہو گئی اور پر انی انارکلی میں کمرشل زمین میں 2لاکھ فی مرلہ سے زائد اضافہ ہوا۔ دوسری جانب عزیز بھٹی ٹاؤن الفیصل ٹاؤن میں راہائش گاہوں کی قیمتیں تین لاکھ سولہ ہزار سے بڑھ کر تین لاکھ79ہزار فی مرلہ جبکہ کمرشل تین لاکھ روپے بڑھ گئیں۔

 

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں