2 لاکھ روپے دیجئے، عوام کی صحت سے کھیلنے کا لائسنس حاصل کیجئے

لاہور (ناصرنقوی) ڈیڑھ سے 2 لاکھ روپے دیجئے اور عوام کی صحت سے کھیلنے کا لائسنس حاصل کیجئے۔ محکمہ صحت پنجاب کی انوکھی سکیم سامنے آگئی۔ نئے میڈیکل سٹورز کے لائسنس 2007 سے پابندی کے باوجود جاری ہوتے رہے۔ ڈرگ کنٹرولر، ڈرگ انپیکٹرز، سی ای او ہیلتھ سمیت متعدد نے کرپشن کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے اور ریڑھی بانوں، کریانہ مرچنٹ، مردہ افراد اور بیرون ملک مقیم افراد کے نام پر لائسنس جاری کیے۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت کا بڑا اسکینڈل سامنے آ گیا۔ ڈریپ کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے پنجاب بھر میں ہزاروں کی تعداد جعلی و غیر قانونی میڈیکل اسٹور کے لائسنس جاری کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

دستاویز کے مطابق جعلی لائسنس کے اجراح میں شہروں میں تعینات سی ای او اور ڈرگ انسپکٹرز ملوث ہیں۔ غیر قانونی لائسنس حاصل کرنے والوں میں ریڑھی بان، کریانہ اسٹور چلانے والے افراد شامل ہیں۔ 2018میں وفات پائے گئے شخص کے نام سے بھی لائسنس جاری ہوا۔ بیرون ملک جانے والے افراد کے نام پر بھی غیر قانونی لائسنس جاری ہوئے۔

نئے ڈرگ ایکٹ کے مطابق 2007 کے بعد نئے لائسنس بنانے پر پابندی ہے جس کے باوجود اجراح ہوا۔ جون 2007 پابندی کے باوجود ہر سال ہزاروں غیر قانونی لائسنس کا اجراہوا۔ مختلف ڈسٹرکٹ میں ڈہڑھ لاکھ سے دو لاکھ روپے کے عوض غیر قانونی لائسنس بنائے گئے۔ ای ڈی او ہیلتھ سی ای او کی اسٹمپ پر غیر قانونی لائسنس کا اجراح ہوتا رہا۔

قصور میں 329 میڈیکل اسٹور کے لائسنس جن میں سے 80 فیصد غیر قانونی ہیں۔ ڈرگ کنٹرولر قصور عبدالمتین نے غیر قانونی لائسنس جاری کیے۔ نئے ڈرگ ایکٹ کے مطابق 2007 کے بعد نئے لائسنس بنانے پر پابندی ہے۔

چیف ڈرگ کنٹرولر منور حیات کا کہنا تھا کہ 2007 کے بعد ڈسپنسر کی کوالیفیکیشن پر نیا میڈیکل اسٹور کا لائسنس بنانا غیر قانونی ہے۔ غیر قانونی اور جعلی لائسنس بنے ہیں جس پر عدالت میں کاروائی جاری ہے۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں