'بجلی چوری کے واقعات میں محکموں کے اہلکار بھی ملوث ہیں'

اسلام آباد (جمشید خان) پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری توانائی نے واضح الفاظ میں اقرار کیا کہ ملک بھر میں بجلی چوری کے واقعات میں اہلکار بھی ملوث ہیں اور عام شہریوں کے علاوہ بجلی کمپنیوں میں موجودہ کرپٹ اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جا رہی ہے۔

تفصیلات کے مطابق پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کی سب کمیٹی کا اجلاس شبلی فراز کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کو وزارت توانائی کے حکام نے بریفینگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ملک بھر میں بجلی چوری میں تقسیم کار کمپنیوں کے اہلکار بھی ملوث ہیں۔

سیکرٹری توانائی نے بتایا کہ ملک بھر میں بجلی چوروں کے خلاف مہم جاری ہے اورمحکمے کے اندر کرپٹ اہلکاروں کے خلاف بھی کاروائی کی جا رہی ہے۔

سیکرٹری توانائی عرفان الہٰی نے بریفینگ میں بتایا کہ بجلی چوروں کے خلاف سولہ ہزار ایف آئی آرز درج ہو چکی ہیں، سکھر،کے پی کے اور حیدر آباد میں کنڈا سسٹم سے بجلی چوری کی جا رہی ہے۔ پنجاب میں کنڈا سسٹم کی بجائے بجلی میٹروں میں گھپلے کئے جاتے ہیں۔

سیکرٹری توانائی نے انکشاف کیا کہ پنجاب میں جدید سافٹ ویئر کے ذریعہ بجلی چوری کی جاتی ہے اور ان بجلی چور گروہ اور محکمہ کے اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی جا رہی ہے۔

سیکرٹری توانائی نے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کو بتایا کہ خیبر پختونخوا میں بجلی چوری کرنے کے مسئلہ کو امن و امان سے جوڑا جاتا تھا لیکن صوبائی حکومت کے تعاون سے بجلی چوروں کےخلاف کامیاب آپریشن کیے گئے ہیں اور اب لوگ بجلی کے میٹر بھی لگا رہے ہیں۔

پی اے سی کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے کچھ علاقے ایسے ہیں جن میں امن و امان کا مسئلہ ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ایسے علاقے بھی ہیں جہاں صرف بیس فیصد بجلی کے بل وصول کیے جاتے ہیں۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں