وزیر اعظم کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے وزراء کو کابینہ سے نکالیں: بلاول بھٹو

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے وزراء کو کابینہ سے نکالیں۔ وزیر خزانہ لگایا تو کس کو لگایا، آصف زرداری کے وزیر خزانہ کو۔ ایسا وزیر داخلہ بنایا گیا جس پر بی بی کے قتل کا الزام ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی وضاحت کے متعلق بات کرنا چاہتا ہوں۔ گزشتہ اجلاس میں میرے خلاف ایک وزیر نے کچھ الفاظ کہے۔ میں نے مشترکہ اجلاس میں بھارتی قصائی وزیراعظم کے حوالے سے اظہار خیال کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم جو کہ گجرات کا قصائی ہے جو اپنا الیکشن جیتنے کے لئے ایٹمی جنگ چھیڑنا چاہتا ہے۔ ہمارے ایک ائیر فورس کے پائلٹ نے بھارتی جہاز مار گرایا۔ پچھلی مرتبہ میری غیر موجودگی میں میرے خلاف باتیں کیں۔ میں نے خطاب میں مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں  کیخلاف ایوان میں بات کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا چاہتی ہے تو پورے پاکستان میں واضح پیغام دینا چاہیے۔ کالعدم تظیموں سے تعلق رکھنے والے وزراء کو نکالنا چاہیے۔  میرے خدشات تھےملک میں مہنگائی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتی وزیر نے میرے پیٹھ پیچھے میرے خلاف بات کی۔ میرے خلاف ملک دشمن کے الفاظ استعمال کیے گئے۔ ہمارے لئے اس طرح کے الزامات  کوئی نہیں بات نہیں۔

پارٹی چیئرمین نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو اور فاطمہ بھٹو کو ملک دشمن کہا گیا۔ موجودہ حکومت ہمیں بھی ملک کیلئے خطرہ سمجھتی ہے۔ حکومت سمجھتی ہے یہ دھمکیوں سے ڈر جائیں گے یہ ان کی بھول ہے۔ جب ضیاء اور مشرف جیسے آمر سے نہیں ڈرے تو اس کٹ پتلی سے کیوں ڈریں گے۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگر یہ واقعی تبدیلی کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں حقیقی تبدیلی لانی ہوگی۔ انہیں ان وزراء کو ہٹانا ہو گا جن کے کالعدم تنظیموں سے رابطے ہیں۔ میرے ہر سوال پر گزشتہ اجلاس میں کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ مگر میری غیر موجودگی میں میرے خلاف انتہائی غیر مناسب الفاظ استعمال کیے گئے۔ مجھے ملک دشمن قرار دیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے اس قسم کے الفاظ کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ فاطمہ جناح اور محترمہ بینظیر بھٹو کے لیے ایسے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ہم ان الفاظ اور ان الزامات پر فخر کرتے ہیں۔ ہم مشرف، ایوب اور دیگر حکومتوں سے نہیں ڈرتے تو یہ کٹھ پتلی ہمارے لیے کیا ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں بتائے تو سہی وزیر خزانہ کو کیوں نکالا؟ کیا آپ نے مان لیا کہ آپ کا وزیر کالعدم تنظیم کے ساتھ الیکشن لڑا۔ میں نے کسی کو برا بھلا نہیں کہا۔ جیسے میرے خلاف الفاظ استعمال کیے۔ میں نے تو کہا تھا کہ یہ نا لائق اور نا اہل ہے۔ اب اگر اتنے کم دن رہ گئے تو وزیر خزانہ نکال دیا۔

بلاول بھٹو کی تقریر پر حکومتی ارکان کی جانب سے شور شرابہ اور نعرے بازی کی گئی۔ بلاول بھٹو اپنی جذباتی تقریر کے دوران مسکراتے رہے۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں