بلاول بھٹو نے قرضہ کمیشن کو غیر قانونی قرار دیدیا

 

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بلاول بھٹو نے قرضہ کمیشن کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ سب سے بڑا ادارہ ہے باقی ادارے اس کو جوابدہ ہیں۔

 

قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران تقریر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت قومی اداروں کو جس طرح چلایا جارہا ہے وہ درست نہیں۔ سٹیٹ بینک، ایف بی آر کے سربراہان جس طرح تبدیل کیا گیا واضح معلوم ہوتا ہے کیسے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکے گئے۔

 

انھوں نے کہا کہ وزیراعظم آئی ایم ایف کے سامنے جانے سے پہلے بالکل بھی تیار نہیں تھے۔ ایک ہی وقت میں بہت سے مسائل چھیڑ دیا گیا ہے جس سے صورتحال درست نہیں خراب ہوگی۔ جس طرح ٹیکسز کا اضافہ کیا جارہا ہے یہ پریشان کن ہے۔ ٹیکسز کا نفاذ اس وقت کیا جاتا ہے جب شرح نمو بہتر ہوتی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں:

 

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جب سے آپ آئے ہیں ملکی معیشت بد سے بدترین ہوچکی ہے۔ اس وقت ایک نہیں دو پاکستان بنا رہے ہیں۔ غریبوں کے لیے مہنگائی اور چور ڈاکوؤں کے لیے ایمنسٹی سکیم دی جا رہی ہے۔ جب ہم معاشی بحران کا شکار ہیں تو امیروں کو کیوں ایمنسٹی دے رہے ہیں۔ معاشی بحران میں اپنے مزدوروں، کسانوں کا معاشی قتل کر رہے ہیں۔

 

پارٹی سربراہ نے واضح کیا کہ خود کہتے تھے کہ جب وزیراعظم سچا ہوگا تو زر مبادلہ بڑھ جائیں گے، ٹیکس خود بخود آجائے گا اور سرمایہ کاری آئے گی۔ لیکن ہوا یہ ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری 50 فیصد کم ہوگئی۔ ٹیکسز اکٹھا نہ ہوئے، زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہو گئے۔

 

اپنی تقریر میں بتایا کہ معلوم ہوتا ہے سابق حکمران ہینڈسم بھی تھے اور سچے بھی تھے۔ آپ 18 ویں ترمیم کے درپے ہیں حالانکہ صوبوں سے سب سے زیادہ ٹیکسز اکٹھا ہوتے ہیں۔ ہم نے اس سال سندھ میں 27 فیصد زیادہ ٹیکس جمع کیا حالانکہ وفاقی حکومت ناکام ہے۔

 

بے نظیر بھٹو کے فرزند نے ایوان کو آگاہ کیا کہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرکے احساس پروگرام لارہے ہیں، یہ ہم نہیں ہونے دیں گے۔ حکمران ٹیکسٹائل اور لیدر گارمنٹس پر ٹیکس لگا کر مزید بے روزگاری کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔ افسوس گھروں کا وعدہ کرنے والوں نے ایک گھر تک نہیں بنایا بلکہ الٹا تجاوزات کے نام پر کاروبار اور گھر تباہ کررہے ہیں۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں