علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کیلئے بلاول بھٹو کا مطالبہ

اسلام آباد(پبلک نیوز) چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جو رویہ ریاست نے ہمارے ساتھ نیب جانے والے افراد کے ساتھ اپنایا اس کی مذمت کرتا ہوں۔ زرداری صاحب کے استعفیٰ کے باعث مجھے اس کاروبار میں حصہ بننا پڑا۔ عمران خان ایک سازش پر اتر آیا ہے کہ ہر ادارے پر قبضہ کریں۔

 

اسلام آباد میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر پاکستانی کا حق ہے کہ جمہوریت میں حصہ لے، جو رویہ ریاست نے ہمارے ساتھ نیب جانے والے افراد کے ساتھ اپنایا اس کی مذمت کرتا ہوں، اسلام آباد میں دفعہ 144 نافز نہیں کیا گیا تھا، میں نے کارکنان کو نیب تک چلنے کی کال نہیں دی تھی۔ قوانین میں نہیں لکھا کہ پرامن کارکنان آپ کے ساتھ نہیں جا سکتے۔ پیپلز پارٹی کے ایم این ایز اور سینیٹرز پر حکومت کی جانب سے حملہ ہوا۔ کارکنان پر لاٹھی چارج ہوا واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

 

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم اس طرح کے طریقے کار سے ڈرتے نہیں اعجاز شاہ کا طریقہ کار نظر آرہا ہے۔ عمران خان ایک سازش پر اتر آیا ہے کہ ہر ادارے پر قبضہ کریں، وہ چاہتے ملک میں ایک پارٹی کو لاگو کریں اور تنقید برداشت نہیں کر پا رہے۔ عوام کو نظر آگیا ہے کہ عمران خان نے تبدیلی کے نام پر دھوکہ دیا ہے۔ نیب کا ادارہ مشرف نے بنایا اور یہ کالا قانون ہے۔ شفاف ٹرائل کا ہمارا حق بلکل بھی نہیں دیا جا رہا ہے۔ بینظیر بھٹو بھی کینگرو عدالت کہتی تھی لیکن پیش ہوتی تھی، جب زرداری صاحب نے صدارت کا حلف لیا تو اس سے استعفیٰ دیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ زرداری صاحب کے استعفیٰ کے باعث مجھے اس کاروبار میں حصہ بننا پڑا، میں کسی بھی طرح کے کاروبار کا روز مرہ کا حصہ نہیں بنا۔ اس پر ہی سابق چیف جسٹس نے کہا کہ کس نے مجھے اس معاملہ میں گھسیٹا۔ نیب میں مجھ سے آج بیس منٹ تک پوچھ تاچھ ہوئی۔ نیب کی جانب سے مجھے ایک عدد سوالنامہ بھی پکڑا گیا ہے۔ تمام تر تحفظات کے باوجود نیب عدالت میں پیش ہو رہا ہوں۔ سپریم کورٹ کے ایک آرڈر پر نیب سے آج میں نے پوچھا، مجھے نیب کی جانب سے کسی بھی طرح کا بھی جواب نہیں ملا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کچھ دیکھ رہے ہیں لیکن کل بھی اور آئندہ آنے والے کل بھی باعزت بری ہوں گے۔ حکومت ہر بیورو کریٹ اور کاروباری شخص کے پیچھے نیب بھیج رہی ہے، ہم نے تو پہلے ہی کہا ہے کہ نیب اور معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتی، اس ملک کے 80 فیصد بیوروکریٹ اور کاروباری افراد کو چور قرار دے دیا گیا۔ موجودہ حکومت کا بلکل مشرف حکومت جیسا رویہ ہے۔ سوچیں فاٹا کی کیا صورتحال ہو گی جہاں وڈیو ریکارڈ کرنے والا میڈیا موجود ہی نہیں۔ آج دوبارہ مطالبہ کرتا ہوں کہ علی وزیر کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا جائے۔ علی وزیر جمعہ کو پارلیمنٹ کے سیشن میں آئے اور اپنا موقف دے سکے۔

 

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے ممبر ایم این ایز کو گرفتار کیا گیا، میں ان کے پروڈکشن آرڈر کا مطالبہ کرتا ہوں۔ اعجاز شاہ کے پرانے طریقہ واپس آرہے ہیں وہ بلیک میل کے ذریعہ ادارے چلانا چا رہے ہیں، انصاف پسند ججز کے خلاف بھی سازش کی جا رہی ہے اور خان ان کے جگہ اوروں کو لگانا چا رہا ہے۔ چیئرمین نیب کے انٹرویو کو دیکھ رہا ہوں اور تمام تر آپشن پر غور کر رہا ہوں، وہ چاہتے ہیں، اعلیٰ عدلیہ کے جج نیب کے لوگ اپوزیشن اور صحافی سلیکٹڈ ہوں، عمران جان ریاست کو اپنی اپوزیشن کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔ سیاست دان عوام کو باہر نکالے اور ان کو سمجھائے کہ ان کے حقوق سلب ہو رہے ہیں۔

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں