بلاول بھٹو کا اسپیکر قومی اسمبلی سے باضابطہ استعفیٰ کا مطالبہ

اسلام آباد (پبلک نیوز) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی غیرجانب دار کسٹوڈین کا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے، اب وقت آچکا ہے کہ وہ اپنے عہدہ سے استعفی دے دیں۔

 

بجٹ اجلاس کے بعد رد عمل دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے تجویز کردہ بجٹ کے نفاذ کا خوف درست ثابت ہوچکا۔ کٹھ پتلی حکومت حق حکمرانی کھوچکی ہے۔ بجٹ سے توجہ ہٹانے کے لیے پہلے احتساب کے نام پر اپوزیشن راہنماؤں کو گرفتار کیا گیا۔ حکومت کی جانب سے باوجود خوف پھیلانے کے بجٹ اجلاس کو توجہ سے سننے کا فیصلہ کیا۔

 

انھوں نے کہا کہ اگر بجٹ عوام دوست ہوتا تو میں حکومت کی حوصلہ افزائی کے لیے تیار تھا۔ بجٹ تقریر کی نقول اپوزیشن کو مہیا نہیں کی گئیں۔ بے بس عوام پر ٹیکسوں کا سونامی لادنے پر انتہائی تشویش ہے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے کاروباری ادارے اپنی تجارت نہیں کرسکتے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ ٹیکسوں کی بھرمار کی وجہ سے مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔ حکومت نے ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ٹیکسوں کی بھرمار میں ایک کروڑ نوکریوں اور 50 لاکھ گھروں کے وعدوں کی تکمیل کہیں نظر نہیں آئی۔

 

پارٹی چیئرمین نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی خواتین ارکان اسمبلی پر تشدد کا نوٹس لینے میں ناکام نظر آئے۔ خیبرپختونخوا، سندھ اور پنجاب کے گرفتار اراکین اسمبلی کے پراڈکشن آرڈرز کا اجراء نہیں ہوا۔ جب گرفتار ارکان اسمبلی کے انتخابی حلقوں کے وسائل کی تقسیم کا معاملہ ہوا، وہ ایوان میں موجود نہیں تھے۔ اسپیکر قومی اسمبلی غیرجانب دار کسٹوڈین کا کردار ادا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکے۔ اب وقت آچکا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اپنے عہدے سے استعفی دے دیں۔

 

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے آصف زرداری، علی وزیر، محسن داوڑ اور سعد رفیق کے پراڈکشن آرڈرز کے اجرا کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں