حکومت نے اعتماد میں نہ لیا تو آئی ایم ایف ڈیل کو نہیں مانیں گے: بلاول بھٹو

اسلام آباد (پبلک نیوز) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرنے پر جہانگیر ترین کو مبارکباد دیتا ہوں۔ ن لیگ سے کہوں گا چیئرمین پی اے سی پر فیصلہ سوچ سمجھ کر کرے۔ احتساب ہونا چاہئے سیاسی انتقام نہیں۔

 

قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ حاصل کرنے پر جہانگیر ترین کو مبارکباد دیتا ہوں۔ ن لیگ سے کہوں گا چیئرمین پی اے سی پر فیصلہ سوچ سمجھ کر کرے۔ احتساب ہونا چاہئے سیاسی انتقام نہیں، گورنراسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر تعیناتی کے خلاف ہر فورم پر جائیں گے۔ ایک سال میں خود کچھ نہیں کر سکے اور 10 سال کا رونا رویا جا رہا ہے۔

 

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت ماضی یاد دلانے کی بجائے بتائے ایک سال میں کیا کیا۔ حکومت جان لے وہ اب اپوزیشن میں نہیں، حکومت میں ہے۔ سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا تو معیشت غیر مستحکم ہوگی۔ سیاسی عدم استحکام حکومت کے مفاد میں نہیں۔ ہر ادارے میں مزدور یونینز کے خلاف سازش ہو رہی ہے۔ مزدور یونینز کو کمزور کرنے کے لیے سازش کے ساتھ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے اعتماد میں نہ لیا تو آئی ایم ایف ڈیل کو نہیں مانیں گے۔

 

ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی نے بھی آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل کی لیکن معیشت کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔ وفاقی حکومت کی نااہلی کا بوجھ عوام اٹھا اور برداشت کر رہے ہیں۔ وفاق کی ناکامی کی وجہ سے صوبے اپنا نقصان کب تک برداشت کریں گے۔ غریب کو نوکریاں دینے کی بجائے بےروزگار کیا جا رہا ہے۔ 50 لاکھ گھر دینے کی بجائے غریب کی چھت بھی چھینی ہے۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ عوام پوچھتے ہیں تعیناتی کے فیصلے کون کر رہا ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کے سامنے جھکی ہوئی ہے۔ کیا آئی ایم ایف فیصلہ کرے گا کون گورنر اسٹیٹ بینک اور کون چیئرمین ایف بی آر ہوگا۔ کیا آئی ایم ایف فیصلہ کرے گا ملک کا وزیر خزانہ کون ہوگا۔ حکومت اپنی ناکامیاں چھپانے کی بجائے سندھ سے سیکھے۔ 18ویں ترمیم سے معیشت کے دیوالیہ ہونے کا حکومتی دعویٰ جھوٹا ہے۔

حارث افضل  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں