یہ مارتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے، بلاول بھٹو

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آصف زرداری نے بطور احتجاج گرفتاری دی۔ پھانسیوں اور دھماکوں سے نہ ڈرنے والوں کو گرفتاریوں سے ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ نیا پاکستان نہیں سینسر پاکستان ہے۔ یہ مارتے بھی ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔

سابق صدر کی گرفتاری کے بعد پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم کے بغیر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈرز بھی جاری نہیں ہوئے۔ یہ مارتے ہیں اور رونے بھی نہیں دیتے۔ یہ رویہ ہم نے مشرف دور میں بھی نہیں دیکھا۔ ہر شہری کو فیئر ٹرائل کا حق حاصل ہے۔ انسانی اور جمہوری حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارا نیشنل اسمبلی اور بجٹ کا سیشن چل رہا تھا جب زرداری صاحب کو گرفتار کیا گیا۔ ہمیں پھانسی گھاٹ تک پہنچایا گیا۔ حکومت ہمارے معاشی اور انسانی حقوق پر حملے کر رہی ہے۔ مجھ پر فرض ہے ملک کے لیے، عوام اور جمہوریت کے لیے آواز اٹھاؤں جس کی جوان ماں سکھر جیل میں موجود رہیں، جس کے والد کی آپ نے زبان کاٹی اور جس کے نانا کو پھانسی پہ چڑھا دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ڈرنے والے نہیں جب حکومت بزدل ہو تو پھر خواتین پر تشدد کیا جاتا ہے، صحافیوں پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ جو عوام کے حقوق پر حملے کرتے ہیں وہ بزدل ہیں۔ نئے پاکستان میں کروڑوں نوکریاں دینا تھیں وہ نہیں دی گئیں۔ یہ ناکام حکومت ہے۔ فاٹا اور سندھ سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پارلیمان اور جمہوریت کی ترقی کے لیے ہم نے ہمیشہ کردار ادا کیا۔ علیمہ خان کا احتساب کب ہو گا جہانگیر ترین کا احتساب کب ہوگا۔ یہ دوغلا نظام ہے۔ زرداری صاحب اور ان کے دوستوں کو اندر کر دیا۔ ہم نے ملک کو چلانا ہے۔ میں تمام جمہوری پارٹیوں سے رابطوں میں ہوں۔ نیب کالا قانون ہے آمر کا بنایا ہوا قانون ہے۔ خوف اور ڈرانے والی بات کی جا رہی ہے۔

پارٹی سربراہ کا کہنا تھا کہ نیشنل اسمبلی کی دو ممبران خواتین کو اسلام آباد کی سڑکوں پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ نیشنل اسمبلی کے ممبران کا تعلق وزیرستان سے بھی ہے۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں