وزیراعظم عمران خان میں منہ پر بات کرنے کی ہمت نہیں ہے: بلاول

اسلام آباد (پبلک نیوز) پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے میرا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا، پھر کون سا تحریری جواب چاہیے تھا؟ وزیراعظم نے ای سی ایل کی بات کی، اچھا ہوتا وزیراعظم یہاں ہوتے تو انہیں ان کے سانے جواب دیتا۔

قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چیف جسٹس نے جے آئی ٹی والوں سے پوچھا کہ کس کے کہنے پر بلاول اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں ڈالا لیکن اس سوال کا جواب ہی نہیں تھا جب کہ وزیراعظم نے ایوان کے اجلاس اور ای سی ایل سے متعلق بیان دیا، اچھا ہوتا وزیراعظم ٹوئٹ کی بجائے اسمبلی میں بیان دیتے، وزیر اعظم سامنے بات کرتے تاکہ انہیں سامنے ہی جواب دیتے لیکن ان میں ہمت نہیں۔

 

 

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے این آئی سی وی ڈی جیسے عالمی معیار کے اسپتال بنائے جس میں مفت علاج ہوتا ہے، یہ دنیا میں مفت علاج کی سہولیات دینے والا بڑا ادارہ ہے، اگر واقعی سپریم کورٹ نے یہ ادارے سندھ سے چھینے ہیں تو میرے لیے سندھ کے عوام کو سمجھانے میں مشکل ہوگا، وہ سمجھیں گے یہ اٹھارہویں ترمیم پر حملہ ہے۔

انہوں نے وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ملک چلانے کے لیے دنیا بھر میں چندہ مانگ رہے ہیں، 14 بلین کا این آئی سی وی ڈی چلانے کے لیے کہاں سے پیسہ لائیں گے؟ اگر یہ فیصلہ ہوتا ہے تو یہ گارنٹی دیں یہ پیسہ دیں گے اور اسپتال میں مفت علاج جاری رہے گا کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں