بلاول بھٹو کے وزیراعظم عمران خان کے والد سے متعلق بیان نے نیا تنازع کھڑا کر دیا

بلاول بھٹو نے حالیہ بیانات میں وزیراعظم عمران خان کے تاریخ سیکھنے کے حوالے سے ایک نئی بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے نانا اپنی قابلیت پر اسکندر مرزا اور ایوب خان کی حکومت میں آئے۔ بلاول نے یہ بھی کہا کہ ان کے نانا نے وزیراعظم کے والد کو نوکری سے فارغ کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کے بلاول کے نانا ذوالفقارعلی بھٹو کو ایک آمر کی گود سے تربیت لے کر وزیر خارجہ بننا اور بعدازاں وزیراعظم کے منصب تک پہنچنے کے بیان پر چیئرمین پیپلز پارٹی نے شدید ردعمل دیا۔

بلاول بھٹو نے ذوالفقارعلی بھٹو کا دفاع کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ان کے نانا ذوالفقار بھٹو نے سیاسی کیرئیر سکندر مرزا کے دور میں شروع کیا اور ایوب کابینہ میں میرٹ پر منتخب ہوئے ان بیانات میں ماضی کی دلچسپ حقیقت چھپی ہوئی ہے۔

بلاول نے ذوالفقارعلی بھٹو کو ایوب خان کا وزیر تو کہا لیکن ایوب خان کو ڈکٹیٹر نہیں کہا، کیا ایوب خان بلاول کے نانا کے باس نہیں تھے؟ اور کیا ایوب خان ڈکٹیٹر نہیں تھے، بلاول یہ بات گول کر گئے۔

تاریخ کے اوراق میں سے ہمیں ذوالفقار علی بھٹو کا اسکندر مرزا کو لکھا ہوا وہ خط بھی مل جائے گا جو پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے اس وقت کے غیرمنتخب اور غیر جمہوری صدر سکندر مرزا سے اپنی وابستگی ظاہر کرنے کے لئے لکھا تھا، جس میں ذوالفقار بھٹو نے سکندر مرزا کو جناح سے بھی بڑا لیڈر قرار دیا، تاریخ میں زندہ وجاوید ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ تاریخ کا ذکر ہو تو بلاول کو معروف سابقہ بیوروکریٹ اور مصنف قدرت اللہ شہاب کی خودنوشت 'شہاب نامہ' میں ذوالفقار بھٹو کا جنرل ایوب خان کو ڈیڈی کہہ کر پکارنا کے واقعہ کی تحریر بھی پڑھ لینی چاہیئے، جو ذوالفقار بھٹو کے سیاسی عروج کا خوب پتہ بتاتی ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کے بیانات بلاول بھٹو پر گراں گُزرے، حالیہ بیان میں بلاول بھٹو نے کہا کہ خان صاحب کو کوئی تاریخ بتائے، ان کے نانا نے سیاسی کیرئیر سکندر مرزا کے دور میں شروع کیا لیکن یہ حقیقت چھپا گئے کہ ایوب خان کے دور میں ہی ذوالفقار علی بھٹو کا سیاسی کیرئیر اپنے عروج پر پہنچا۔

معروف سینئر صحافی و تجزیہ نگار مجیب الرحمان شامی نے عمران خان کے والد کے حوالے سے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کے قریبی ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے والد 1959 میں سرکاری نوکری سے علیحدگی اختیار کرچکے تھے، لہذا 1971 کا بیان کردہ واقع حقائق سے عاری اور من گھڑت ہے۔

وزیر اعظم ہاوس کے قریبی ذرائع نے یہ بھی کہا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو صاحب اب ایک  نظر اپنے گھر کی طرف بھی کیجئے، آپ کے والد سابق صدر آصف زرداری کے کرپشن کے ہوشربا واقعات اور مسٹرٹین پرسنٹ کے خطابات زبان زدعام ہیں۔

ذرائع نے مزید کہا کہ یہ حقیقت بھی سب کو معلوم ہے کہ آصف ذرداری نے کس طرح اپنے دور حکومت میں نیب کے رکارڈ سے اصل دستاویزات غائب کروائیں اور پھر بریت کا ڈھنڈورا پیٹا۔

وزیر اعظم ہاوس کے قریبی ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ بینظیر کی وصیت کی اصل حقیقت کس کو معلوم نہیں، جعلی اکاؤنٹس کی طرح بے نظیر کی وصیت بھی جعلی ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو دوسروں پر دشنام طرازی اور تنقید کے نشتر چلا کر آپ اپنے معاملات سے پہلو تہی نہیں کر سکتے اور آپ تو اپنے والد کے مبینہ جعلی اکاؤنٹس اور کاروبار کے حصہ دار بھی ہیں۔ بلاول کا اور ایان علی کا خرچہ ایک ہی بنک اکاؤنٹ سے ہوتا رہا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بلاول اپنے قد سے بڑی بات کرتے ہیں اور تاریخ سے مکمل واقفیت بھی نہیں رکھتے۔

احمد علی کیف  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں