بلاول بھٹو کا جعلی اکاؤنٹس از خود نوٹس کیس پر لارجر بینچ بنانے کا مطالبہ

پبلک نیوز: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مجھے سنے بغیر میرے خلاف مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ مجھے ابھی تک موقع ہی نہیں دیا گیا کہ میں اپنا مؤقف بیان کرسکوں۔ میری ساتھ یہ ناانصافی ہے، مجھے مؤقف پیش کرنے کے لیے موقع ملنا چاہیے تھا۔ آرٹیکل 10-اے ملک کے ہر شہری کو فیئر ٹرائیل کا حق دیتا ہے۔

بیرونِ ملک دورہ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ  میرے کیس میں بیشمار ایسی مثالیں موجود ہیں جب مجھے فیئرٹرائیل کے حق سے محروم کیا گیا۔ میں نے بے نامی اکائونٹس کیس میں نظرثانی اپیل داخل کی ہے۔ میں نے نظرثانی اپیل میں آرٹیکل 184-3 کے تحت ازخود نوٹیس پر سوال اٹھایا ہے۔ بے نامی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات میں سست روی کس طرح انسانی حقوق یا ازخود نوتیس کا معاملہ بن سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر یہ کیس ازخود نوٹس کے زمرے میں آتا بھی ہے تو بھی سوال ہے کہ اسے سست روی کا شکار کیس کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔ ایف آئی آر درج تھی، تحقیقات جاری تھی، ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ موجود تھی اور کیس بنکنگ کورٹ میں زیرِ سماعت تھا۔ اس صورتحال میں کیس کو سست روی کا شکار کیونکر قرار دیا جسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عام انتخابات کے دوران اس پر ازخود نوٹیس لے کر بہت بڑا معاملہ بنا دیا گیا۔ اعلیٰ عدلیہ کو گزارش کرتا ہوں کہ میری پٹیشن پر لارجر بنچ بنایا جائے تاکہ آئینی سوالات کا جواب ملے۔ جب فیصلہ سنایا جارہا تھا تو اس وقت چیف جسٹس صاحب کی آبزرویشنز غیرمعمولی تھیں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ معزز چیف جسٹس نے جے آئی ٹی کے ایک فرد سے پوچھا تھا کہ میرا نام کس کے کہنے پر ای سی ایل میں ڈالا گیا۔ چیف جسٹس صاحب کے اس سوال کا جواب ہمیں نہیں ملا۔ جو آرڈر چیف جسٹس نے کورٹ میں سنایا اور پورے ملک نے سنا وہ تحریری حکمنامے میں شامل نہیں۔

پارٹی سربراہ نے واضح کیا کہ آیا یہ غلطی کلرک سے سرزد ہوئی یا اس کا جواز کیا ہے۔ یہ انصاف نہیں کہ ایک چیف جسٹس کسی کو بھری عدالت میں کہے کہ آپ بے گناہ ہو لیکن فیصلے میں سزا سنائی جائے۔ یہ تضاد بطور ایک ادارہ عدلیہ کے تقدس کو مجروح کرتا ہے۔ اگر زبانی حکم اور تحریری حکم میں اتنا تفاوت آنا تھا تو ہمیں فیئر ٹرائیل کے تحت مؤقف پیش کرنے کا موقع دیتے۔

پی پی پی چیئرمین نے بتایا کہ اس کے بعد بھی اگر آپ ہمارے خلاف فیصلہ سناتے تو بھی ہم قبول کرتے۔ لیکن اس طریقے سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ میرا فیئر ٹرائیل کا حق بھی چھینا گیا۔ یہ بھی خلافِ قانون فیصلہ دیا گیا ہے کہ ہمارے خلاف مقدمہ راولپنڈی میں چلایا جائے گا۔ جورسڈکشن کے اصولوں کے مطابق یہ کیس سندھ میں چلایا جانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھٹوز کے لیئے ہمیشہ راولپنڈی مین کربلا برپا کیا جاتا ہے، ہم تیار ہیں۔ میرا یہ بھی اعتراض ہے کہ یہ کیس نیب کا کیس کیسے بنتا ہے۔ سپریم کورٹ میں داخل نظرثانی اپیل میرے لیئے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔

انھوں نے کہا کہ پارٹی کے اکثر لوگ مجھے کہتے ہیں کہ ہمیں سپریم کورٹ سے کبھی انصاف نہیں ملا۔ مگر میں سمجھتا ہوں، اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنا ضروری تھا۔ ریلیف ملے یا نہ ملے، لیکن تاریخ کے لیئے میں اپنے اعتراضات رکارڈ کروالوں۔

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں