جنوبی پنجاب صوبہ کیلئے آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی میں منظور، مسلم لیگ (ن) کی مخالفت

اسلام آباد (پبلک نیوز) جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے آئینی ترمیمی بل کی تحریک قومی اسمبلی میں منظور کرلی گئی تاہم مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب صوبہ کی تحریک کی مخالفت کردی۔

 

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں تحریک انصاف کے رکن اسمبلی مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی نےجنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

 

جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے حوالے سے اپوزیشن تقسیم دکھائی دی، پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کی حامی ہے لیکن مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب صوبہ کی تحریک کی مخالفت کردی۔

 

اس موقع پر لیگی رہنما  شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ  بڑے بڑے مسائل پر ایوان میں ابھی تک بات نہیں ہوئی۔ پارلیمنٹ متفق ہے کہ فاٹا کے عوام کو ان کا حق دیا جائے۔ فاٹا بل کو چھوڑ کر دوسرا بل لایا جا رہا ہے۔ فاٹا کے عوام نے قائداعظم کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ گالم گلوچ اور طعنے دینے سے حکومت نہیں ہوتی۔ گزارش ہے اس ملک کو ایک شفاف الیکشن دے دیں۔ امید ہے وزیراعظم کو ملکی مسائل اور آئی ایم ایف معاہدے بارے بات کریں گے۔ آج نیب آوازیں دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

قبل ازیں وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب کا قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ رمضان میں سحر اور افطار کے وقت  لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی۔  وزیراعظم کی ہدایت پر سحر اور افطار میں بلاتعطل بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ عمران خان کی حکومت نے سسٹم کو شفاف بنایا چوری کے خلاف مہم چلائی۔ بجلی چوروں کے خلاف 30 ہزار مقدمات درج کرائے 4 ہزار کو جیل بھیجا۔

 

قومی اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبے پر پوری قوم متحد ہے۔ سی پیک منصوبے کی تکمیل سے خطے کے تعلقات بڑھیں گے۔ سی پیک منصوبے کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ گوادر میں شہید سکیورٹی گارڈ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

 

شاہ محمود قریشی  کا کہنا تھا کہ پاکستانی افواج نے فوری کارروائی کر کے دہشتگردوں کو انجام تک پہنچایا۔ شاہ محمود نے جنوبی پنجاب کے حوالے سے کہا کہ جنوبی پنجاب کی عوام کو حق دلوانے کے لیے پی پی اور ن لیگ کو مل بیٹھنے کی دعوت دیتا ہوں۔

حارث افضل  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں