مفکر پاکستان ڈاکٹر محمد علامہ اقبال کا آج یوم ولادت منایا جارہا ہے

اسلام آباد(پبلک نیوز) ہر سال کی طرح اس سال بھی 9 نومبر آج کے دن مفکر پاکستان اور شاعر مشرق ڈاکٹر محمد علامہ اقبال کا یوم پیدائش کو یوم اقبال کے طور پر ملک بھر میں منایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی الگ مملکت کیلئے اپنے خطبۂ الٰہ آباد میں پورا نقشہ پیش کیا۔

 


یوم اقبال کے موقع پر پورے پاکستان میں تعلیمی اداروں میں تقاریری مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں اور ان میں اقبال کے کلام اور ان کی شخصیت پر بحث کی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی شاہری سے مسلمانوں کو بیدار کیا اور اپنے کلام کی مدد سے اس وقت کے مایوس مسلمانوں کو جدوجہد کے لیے ہمت دلائی۔

 

ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف،قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ اردو اور فارسی میں شاعری علامہ اقبال کی بنیادی وجہ شہرت ہے۔ مسلمانان ہند کیلئے الگ وطں کا خواب دیکھنے والے اقبال قیام پاکستان سے پہلے ہی چل بسے۔ لیکن ایک عظیم شاعر اور مفکر کے طور پر قوم ہمیشہ ان کی احسان مند رہے گی۔ جنہوں نے پاکستان کا تصور پیش کرکے اپنی شاعری سے برصغیر کے مسلمانوں میں جینے کی ایک نئی آس پیدا کی۔ علامہ اقبال کی شاعری کو تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

 

شاعری کا پہلا دور، ان کی شاعری کا پہلا دور 1905 تک کے کلام پر مبنی ہے، 1857 کی جنگ آزادی کے بعد ہندوستان کی فضا قدرے غیر سیاسی تھی۔ یہاں علامہ کی شاعری کا روایتی انداز بھی کچھ یوں تھا۔


"تو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہيں"
اے گل رنگيں ترے پہلو ميں شايد دل نہيں

"زيب محفل ہے، شريک شورش محفل نہيں"
يہ فراغت بزم ہستی ميں مجھے حاصل نہيں


عہد طفلی کو بھی اشعار میں قلمبند کر دیا؛

"تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليے"
وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے

"تھی ہر اک جنبش نشان لطف جاں ميرے ليے"
حرف بے مطلب تھی خود ميری زباں ميرے ليے


علامہ صاحب سے پہلے اردو شاعری کا انداز شاہانہ تھا۔ بچے کھچے نوابوں کے درباروں میں شاعروں کی سرپرستی کی جاتی۔ مگراردو شاعری قوم کی تربیت کے عنصر سے محروم تھی۔ صرف ایک شاعر مرزا اسد اللہ غالب اس زبوں حالی کو اپنے اشعار میں بیان کر گئے، جن کو علامہ اقبال نے اچھوتے انداز بیان میں خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ؛

 

"لطف گويائی ميں تيری ہمسری ممکن نہيں"
ہو تخيل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشيں
 

اس زمانہ میں انہوں نے بچوں کے لئے بھی بہت سی نظمیں لکھی ہیں۔ اس کے ساتھ مکالماتی بیان مثلاً مکڑا اور مکھی، پہاڑ اور گلہری، گائے اور بکری کو بھی نہایت خوبصورت پیرائے میں تخیل کا جز بنا دیا۔ کبھی بچے کی دعا کہہ گئے۔ جو ہربچے کی زبان پر ہے۔

 
"لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا ميری"
زندگی شمع کی صورت ہو خدايا ميری
 

اپنی شاعری کے بالکل ابتدائی زمانہ میں اقبال کی توجہ غزل گوئی کی جانب تھی۔

 

"نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی "
مگر وعدہ کرتے ہوئے عار کیا تھی
 

لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ اپنی جستجو تلاش میں سرگرداں تھے اور دل کی اصل کیفیت کی طرف رغبت بار بار جا رہی تھی۔ اس لئے تو لکھتے ہیں۔


"جنہيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں"
وہ نکلے ميرے ظلمت خانہ دل کے مکينوں ميں
 

اقبال کی شاعری کا دوسرا دور 1905 سے 1908 تک ہے، جو انہوں نے یورپ میں اعلی تعلیم کے حصول کی خاطر گزارا اور مغربی دنیا کو گہری مطالعاتی نظر سے کریدا۔ اس دور کی شاعری میں یورپ کے مشاہدات کا عکس واضح نظر آتا ہے۔ مغربی تہذیب بے زاری کا اظہار و اشگاف الفاظ میں کرتے ہیں۔

 

"تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خود کشی کرے گی"
جو شاخ نازک پر بنے گا آشیانہ ناپا ئیدار ہو گا
 

لیکن رومانیت کے اظہار میں ان کی عشق بیان کی صفت اسی روش پرتھی جو دل کی کیفیت پر بھاری تھی۔ پیام عشق میں یوں کلام کرتے ہیں۔

 

"زمانہ ديکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا"
مری خموشی نہيں ہے، گويا مزار ہے حرف آرزو کا
 

اقبال کے شاعری کے تیسرے دور نے مسلمانوں کو اپنے حقوق کے تحفظ کی تحریک میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کرنے کی طرف پہلا قدم بنا دیا۔علامہ اقبال اپنی فکر کو اشعار کی زبان میں مجلسوں میں بیان کرتے اور قوم کے اندر نئی و ولولہ کو پیدا کرنے کی تحریک بنے۔

 
"سرزميں دلی کی مسجود دل غم ديدہ ہے"
ذرے ذرے ميں لہو اسلاف کا خوابيدہ ہے
 

علامہ اقبال نے اپنی ابتدائی شاعری میں ترانہ ہندی لکھا تھا مگر برصغیر کی بدلتی سیاسی صورتحال میں ان کی شاعری میں مسلم قومیت کا رنگ نمایاں ہوتا چلا گیا۔ جیسے ان کا یہ ترانہ ملی ملاحظہ فرمائیں ۔

 

"چين و عرب ہمارا ہندوستاں ہمارا"
مسلم ہيں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
 
"توحيد کی امانت سينوں ميں ہے ہمارے"
آساں نہيں مٹانا نام و نشاں ہمارا
 

مسلمان قوم جس مشکل کا شکار تھی، طاقت کا توازن بگڑنے سے حاکم محکومی کے اس مقام پر جا پہنچے جہاں انہیں معاشی و معاشرتی نا ہموار سماج کے ساتھ ساتھ غم روزگار کے بھی لالے تھے۔ علامہ اقبال کا شکوہ بھی آرزدہ دل مسلمان کی پکار تھی۔

 

"کيوں زياں کار بنوں، سود فراموش رہوں"
فکر فردا نہ کروں محو غم دوش رہوں
 
"نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں"
ہم نوا ميں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں
 
"ہے بجا شيوہء تسليم ميں مشہور ہيںہم"
قصہ درد سناتے ہيں کہ مجبور ہيں ہم
 
"اے خدا! شکوہء ارباب وفا بھی سن لے"
خوگر حمد سے تھوڑا سا گلا بھی سن لے
 

صرف قوم کوخوابیدگی سے اُٹھانے پر ہی اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کے لئے دعا بھی نکلتی ان کے دل سے۔

 
"يا رب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے"
جو قلب کو گرما دے،جو روح کو تڑپا دے
 
"پھر وادیِ فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے"
پھر شوق تماشا دے، پھر ذوق تقاضا دے

 

علامہ اقبال کی شہرت جہاں مسلمانوں کے موجودہ دور میں مصلحانہ کردار کی تھی وہیں قیامِ پاکستان میں ایک ممتاز شخصیت کی تھی کیونکہ انہوں نے اپنے خطبۂ الٰہ آباد میں مسلمانوں کی الگ مملکت کا پورا نقشہ پیش کیا۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں