صوبائیت کو چھیڑنے کی کوشش کی تو فیڈریشن کو خطرہ ہو گا :خورشید شاہ

اسلام آباد(پبلک نیوز) پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء سید خورشید احمد شاہ کا کہنا ہے کہ جذباتی بن کر گالم گلوچ سے سیاست نہیں ہوتی، آج مہنگائی نے جو حالت کی ہے کسی کے برداشت میں نہیں،2010 میں سیلاب نے تباہی مچائی، انفراسٹرکچر ختم ہو گیا۔

 

قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماء سید خورشید احمد شاہ نے کہا کہ جذباتی بن کر گالم گلوچ سے سیاست نہیں ہوتی، پھر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے، ہماری کوشش ہو گی ماحول ٹھیک رکھیں، بجٹ کا جو احساس عوام کو ہو وہ ہی بجٹ کے اچھا برا ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے، بجٹ کا دارو مدار آبادی پر ہے جو ہر شعبے کو متاثر کرتی ہے۔ وفاقی حکومت کی اہم ذمہ داری ہے کہ آبادی میں اضافے کے مسئلے کو دیکھے۔ بجٹ میں اس حوالے سے کوئی قدم نہیں اٹھایا جا رہا، کوئی شک نہیں موجودہ حکومت نے جو وعدے عوام سے کیئے ایک فیصد بھی پورا کیا ہو۔ جتنے وعدے تھے اس کا ایک فیصد بھی پورا کر لیتے تو خوشی ہوتی۔

 

پی پی پی رہنماء سید خورشید شاہ نے کہا کہ ان کی پوری کوشش ہے حالات ایسے ہوں کہ اصل مسائل پر توجہ نہ جائے،2008 میں جب ہم آئے تو ایک ڈکٹیٹر موجود تھا، اس ڈکٹیٹر کے سامنے کوئی بول نہیں سکتا تھا بے پناہ اختیارات تھے، ملک کے حالات ایسے تھے محترمہ شہید ہو چکی تھیں، محترمہ کی شہادت کے بعد صوبوں میں آگ لگی تھی، نفرت تھی، پورے ملک میں دہشت گردی کا راج تھا، سوات سے پاکستان کا جھنڈا اُتر چکا تھا، کہا جا رہا تھا طالبان اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔2010ء میں سیلاب نے تباہی مچائی، انفراسٹرکچر ختم ہو گیا، اس کے باوجود ہم نے چیخ پکار نہیں کی کہ ماضی کی حکومت میں کیا ہوا، ہم نے رونا شروع نہیں کیا کہ ڈالر اور تیل کی قیمت کہاں پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اس ایوان پر اعتماد رکھا، اسی پارلیمنٹ نے راستہ دیا، ہم گھبرائے نہیں، الزام تراشیاں نہیں کیں۔ نوید قمر صاحب آئے انہوں نے کام کیا، حالات کو سنبھال لیا، ہم نے ایوان اور جمہوریت پر اعتماد رکھا، پارلیمنٹ نے ہمیں راستہ اور ہمت دی، زراعت کو بڑھا دیا جائے تو کسی سے قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ عوام کی خوشحالی کا کریڈٹ پیپلز پارٹی کو جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے این ایف سی ایوارڈ کا اجراء کیا، صوبائیت کو چھیڑنے کی کوشش کی تو فیڈریشن کو خطرہ ہو گا۔ ملک میں ڈیم پر سیاست کی گئی، ڈیم بننا چاہئے۔ ڈیم ملک کی ضرورت ہے بننا چاہئے، ہم کسان کی طرف خوشحالی لے گئے، لوگ خوشحال تھے۔

 

رہنماء پیپلز پارٹی خور شید شاہ کا کہنا تھا کہ آئین کو ڈکٹیٹر نے تباہ کیا تھا، ہم نے بحال کیا، آئی ایم ایف سے بچنے کے لیے ایک ہی راستہ زراعت ہے، آپ کو تو بنا بنایا پاکستان مل گیا، کوئی دہشت گردی نہیں، بحران نہیں ہے، ڈیم فنڈ میں کتنا پیسہ اکٹھا ہوا، ایل این جی 10روپے فی کلو بڑھا دی گئی،50 لاکھ گھر بنانے کا کہا گیا تو خوشی ہوئی، سوچا لوگوں کو گھر ملے گا۔ تقریباً 90 لاکھ لوگوں کے اپنے گھر نہیں، 30 لاکھ کا گھر لے کر غریب آدمی کہاں سے اقساط دے گا۔ غریب آدمی کے پاس کھانے کو روتی نہیں، 50 ہزار کہاں دے دے گا، کہاں گئے حکومت کے عوام سے کیے ہوئے جھوٹے وعدے۔

عطاء سبحانی  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں