وفاقی حکومت بلوچستان کو کالونی کے طورپر ڈیل کر رہی ہے: اختر مینگل

 

اسلام آباد (پبلک نیوز) بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اختر مینگل نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان کو کالونی کے طورپر ڈیل کررہی ہے۔ جب ووٹوں کی ضرورت ہے تو اختر مینگل بھی چاہئے شاہ زین بگٹی بھی چاہئے ہوتا ہے۔

قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے علاقے آواران سے چار خواتین کو اغوا کرلیا گیا۔ خواتین پر عقوبت خانے میں تشدد کیا جاتا رہا ۔ دوروز قبل خواتین کو جوڈیشل کردیا گیا۔ بتایا جائے بلوچستان میں حکومت کون چلا رہا ہے۔

اختر مینگل نے سوال اٹھایا کہ نادیدہ قوتیں چلارہی ہیں یا سول حکومت چلا رہی ہے۔ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملے گی کہ بلوچ بزرگوں کے تابوت پر تالے لگا دیئے گئے۔ آج کی حکومت اس ڈکٹیٹر کے خلاف مقدمات کو تالے لگانا چاہ رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ کیا اس سے بلوچستان کو ترقی ملے گی یا نفرت بڑھے گی۔ خواتین کی گرفتاری سے کیا پیغام جائے گا۔ دہشتگردوں کے چہرے چھپا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ خواتین کے سامنے لاکھوں روپے اسلحہ رکھ کر ان کی تصاویر چلائی جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نہ پچھلی حکومتوں نہ موجودہ حکومت بلوچستان کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے۔ جون میں بلوچستان کے لیے کمیٹی بنی ممبران تک کے ناموں کا ابھی تک پتہ بھی نہیں۔ آپ بلوچستان کو کالونی کے طورپر ڈیل کررہے ہیں۔

وفاقی حکومت پر تنقید کے نشتر برساتے کہا کہ جب ووٹوں کی ضرورت ہے تو اختر مینگل بھی چاہئے شاہ زین بگٹی بھی چاہئے ہوتا ہے۔

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں