حالت جنگ ہو یا زمانہ امن، پاک فضائیہ کے شاہینوں کی شاندار جرات مندانہ مثالیں

اسلام آباد (پبلک نیوز) حالت جنگ ہو یا زمانہ امن، پاک فضائیہ ہر لمحہ ہر دم پاک وطن کی فضاؤں کے دفاع کے لئے چوکس رہتی ہے۔ گذشتہ روز ایل او سی کی خلاف ورزی پہلا موقع نہیں، دشمن نے جب بھی پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ اسے منہ کی کھانا پڑی۔

 

بھارت کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تاریخ کافی پرانی ہے، یہ قصہ شروع ہوتا ہے۔ دس اپریل انیس سو انسٹھ سے۔ جب عید الفطر کے روز انڈئین ائیر فورس کا انگلش الیکٹرک کینبرا بمبار طیاہ پاک وطن کی فضاؤں میں گھس آیا، اس طیارے کا تعلق بھارتی فضائیہ کی نمبر 106 سکواڈرن سے تھا۔ پاک فضائیہ کے ایف ایٹی سکس طیاروں نے بھارتی بمبار طیارے کا فوری تعاقب اور اپنا پہلا شکار کیا۔ طیارے کا ملبہ راولپنڈی کے قریب گرا۔ طیارے کے دونوں پائلٹس بچ نکلے جنہیں بعد میں بھارت کے حوالے کیا گیا۔ 1965ء کی جنگ میں تو پاک فضائیہ نے دشمن کے دانت ایسے کھٹے کئے کہ کئی بھارتی طیاروں کو زمین پر کھڑے کھڑے ہی تباہ کر دیا گیا۔ 1970 کی جنگ میں مشکل حالات کے باوجود پاک فضائیہ نے دشمن کا خوب مقابلہ کیا۔

 

زمانہ امن کی بات کریں تو زیادہ وقت نہیں گزرا، یہی ایل او سی تھی اور یہی بھارتی فضائیہ، سال تھا1999ء کارگل کا محاذ گرم تھا۔ تکنیکی برتری کے زعم میں انڈئن ائیر فورس پاک فضائیہ کو ایل او سی کے پار چیلنج کرتی دکھائی دے رہی تھی۔ ایسے میں آن پہنچا 27 مئی 1999ء کا وہ گرم دن، جب بھارتی فضائیہ کی نمبر نائن سکواڈرن کا ایک مگ ٹوئنٹی سیون ایل او سی کے پار آ نکلا۔ مگ ٹوئنٹی سیون کے پائلٹ فالئٹ لیفٹیننٹ کمبا پتی ناچیکیتا کا خیال تھا کہ اس کا طیارہ پاک فضائیہ کے شاہینوں یا پاکستانی ائیر ڈیفنس کی پکڑ میں نہیں آئے گا۔ جلد ہی اس کی بھول دور ہو گئی۔

 

پاکستانی ائیر ڈیفنس کے کیپٹن فہیم ٹیپو نے عنزہ ٹو، سرفیس ٹو ائیر میزائل سے ایسا نشانہ لیا کہ فالئٹ لیفٹیننٹ کمبا پتی ناچیکیتا جلتے طیارے سمیت زمین پر آگرا۔ ناچیکیتا کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔ کچھ ہی دیر بعد بھارتی فضائیہ کے دو مگ اکیس طیاروں نے بھی ایل او سی پار کرنے غلطی کی۔ پہلے شکار کے بعد پاکستانی ائیر ڈیفنس اور کیپٹن فہیم ٹیپو پوری طرح الرٹ تھے اور ایک بار پھر عنزہ ٹو میزائل نے ایسا تاک کر وار کیا کہ ایک نمبر سترہ سکواڈرن کا مگ اکیس دھواں چھوڑتا، بل کھاتا زمیں پر ڈھیر ہو گیا اور پائلٹ سکواڈرن لیڈر اجے آہوجا بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

 

تباہ ہونے والے مگ اکیس کا ملبہ پاکستانی دس سے بارہ کلومیٹر پاکستانی حدود میں گرا۔ دو دن بعد انتیس مئی کو پاکستان نے مکمل فوجی اعزاز کیساتھ بھارتی پائلٹ کی لاش واپس کی جبکہ 4 جون کو پاکستان نے فالئٹ لیفٹیننٹ ناچیکیتا کو خیر سگالی کے طور پر رہا کر دیا۔ دلی سرکار کو اس وقت بھی دونوں طیاروں کی تباہی پر اتنی خفت اٹھانا پڑی کہ رہا ہونے والے پائلٹ کو لینے کے لئے اعلیٰ حکام تو دور کوئی دفاعی اتاشی بھی موجود نہیں تھا۔ اب تاریخ نے ایک بار پھر خود کو دہرایا ہے۔ وہی ایل او سی ایک بار پھر دو بھارتی طیاروں کا شمشان بنی ہے۔ بھارتی پائلٹ ایک بار پھر پاکستان کا مہمان ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اب کی بار بھارت سرکار کا کوئی اہلکار اپنے سپوت کا استقبال کرتا ہے یا نہیں۔

عطاء سبحانی  7 ماه پہلے

متعلقہ خبریں