کراچی میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن، سندھ اسمبلی کا اجلاس اندھیرے میں ہوا

کراچی (پبلک نیوز) شہر قائد میں ایک بار پھر بجلی کا بریک ڈاؤن، شہر کا 80فیصد علاقہ بجلی سے محروم ہو گیا۔ واٹر بورڈ کے گھارو، دھابیجی، پپری نارتھ ایسٹ کراچی سمیت دیگر پمپنگ اسٹیشنز پر بھی بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔ سندھ اسمبلی میں بھی دوران اجلاس اندھیرا چھایا رہا۔ شہریوں نے بھی کے الیکڑک کو بریک ڈاون کا ذمہ دار ٹھہرادیا۔

تفصیلات کے مطابق بجلی کی آنکھ مچولی تو کہیں پانی کی عدم فراہمی معمول بن گئی۔ کراچی میں ایک بار پھر بجلی کا بڑا بریک ڈاون دیکھنے میں آیا جس کے باعث شہر کا 80فیصد علاقہ بجلی سے محروم ہو گیا۔

نئے سال کے پہلے بریک ڈاؤن نے صنعتی زون بھی سرگرمیاں معطل کر کے رکھ دیں۔ نارتھ کراچی، نارتھ ناظم آباد، نیو کراچی، فیڈرل بی ایریا سمیت شہر کے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی منقطع ہو گئی۔

دوسری جانب سندھ اسمبلی میں بھی اندھیرے چھا گیا۔ بجلی غائب ہوئی تو جنریٹر نے بھی کام کرنا چھوڑ دیا۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کے مختلف شعبوں میں اندھیرے میں کام  جاری رہا۔ اراکین اسمبلی کی جانب سے بجلی بریک ڈاون پر شدید برہمی کا اظہار کیا گیا۔

وزیر توانائی سندھ امتیاز شیخ کا کہنا تھا کہ آئے دن این ٹی ڈی سی کا سسٹم فیل ہو رہا ہے۔ باربار مطالبہ کیا ہے اسے ڈی سنٹرلائئزڈ کیا جائے۔ سنبھال نہیں سکتے اور کام کیا نہیں جاتا کوتاہی اور مرمت نہ ہونے سے یہ بحران ہوتا ہے۔

عوام نے بجلی بریک ڈاؤن کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو قرار دے دیا۔ ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق کراچی کے نیشنل گرڈ میں ٹرپنگ کے باعث سندھ بشمول کراچی میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی تھی۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں