جمال خشوگجی کا مبینہ قتل، ملوث افراد کا تعلق سعودی ولی عہد کے قریبی حلقہ سے ہے، امریکی میڈیا

پبلک نیوز: ترکی میں موجودسعودی قونصل خانے سے لاپتہ ہونے والے سعودی صحافی جمال "خاشگ جی" کی گمشدگی تاحال ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیوجمال خشوگجی کے گمشدگی کی گتھیاں سلجھانے ترکی پہنچ گئے اورصدر طیب اردوان سے ملاقات کی۔

سعودی صحافی "جمال خاشگ جی" کی مبینہ گمشدگی کی تحقیقات جاری ہیں۔ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کے بعد ترکی میں صدر طیب اردوان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان "جمال خاشگ جی" کی پراسرار گمشدگی کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔ مائیک پومپیو نے طیب اردوان کوتحقیقات میں امریکی مدد کی پیشکش کی بھی کی۔

امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ "جمال خاشگ جی" کوسعودی قونصل خانے میں دوہفتے قبل قتل کرکے ان کی لاش کے ٹکڑے کردیئے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق "خاشگ جی" کے مبینہ قتل میں ملوث کئی افراد کا تعلق براہ راست سعودی ولی عہد کے قریبی حلقے سے ہے۔

دوسری جانب روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف نےکہا کہ "جمال خاشگ جی" کے بارے میں تحقیقات کا جلد از جلد مکمل ہونا ضروری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ترکی اور سعودی حکومتیں عالمی رائے عامہ کو بھی ان تحقیقات کے نتائج سے آگاہ کریں گے۔

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں