2080 تک دنیا میں 1 ارب انسان ڈینگی کی لپیٹ میں ہوں گے، تحقیق

 

پبلک نیوز: سائنسدانوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو دنیا میں ڈینگی کے پھیلائو کی سب سے بڑی وجہ قرار دے دیا ہے۔ جدید تحقیق اور دستیاب ڈیٹا کے مطابق ڈینگی دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والی وائرل بیماری بن چکی ہے۔ یہ مسئلہ اس قدر خوفناک ہے کہ 2080 تک دنیا میں 1 ارب انسان ڈینگی کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔

 

ماہرین کے مطابق بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث مچھروں اور چیچڑوں سے پھیلنے والی بیماریوں میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کو ڈینگی سے خطرہ ہے۔ چند دہائیوں قبل صرف 9 گرم مرطوب ممالک تک محدود ڈینگی وائرس آج دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک میں پایا جاتا ہے۔

 

جدید تحقیق اور دستیاب ڈیٹا کے مطابق ڈینگی دنیا میں سب سے زیادہ پھیلنے والی وائرل بیماری بن چکی ہے۔ یہ مسئلہ اس قدر خوفناک ہے کہ 2080 تک دنیا میں 1 ارب انسان ڈینگی کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ اب یورپ کو بھی ڈینگی کی وبا سے خطرہ ہے جہاں فرانس اور پرتگال جیسے ممالک میں ڈینگی کے مریض سامنے آ چکے ہیں۔

 

ماہرین کا کہنا تھا کہ قابل بھروسہ ویکسین نہ ہونے کے واعث واحد علاج مچھروں کا پھیلائو روکنا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی کے ساتھ انسانوں کے طرز زندگی میں تبدیلی بھی ڈینگی اور دیگر وائرل بیماریوں کے پھیلائو کا باعث بن رہی ہے۔ گزشتہ 50 برس کے مقابلے میں آج انسان ایک جگہ سے دوسری جگہ زیادہ سفر کر رہے ہیں۔ بڑھتی ہوئی عالمی تجارت میں ٹائرز، شپنگ کنٹینرز کے طیارے بھی مچھروں کو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک منتقل بننے کا باعث بن رہے ہیں۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں