احتساب عدالت: نواز شریف کا بیان ریکارڈ مکمل کرنے کیلئے جمعرات تک مہلت

اسلام آباد (پبلک نیوز) احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا بیان ریکارڈ مکمل کرانے کے لیے جمعرات تک مہلت کی استدعا منظور کر لی۔ فاضل جج کا ریمارکس میں کہنا ہے کہ کوشش کریں گے فلیگ شپ ریفرنس کے لیے 70سے 75تک سوالات ہوں تاکہ اس کے بعد حتمی بحث شروع ہوجائے۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز پر سماعت کی۔ دوران سماعت خواجہ حارث کو مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میاں صاحب کا العزیزیہ میں بیان مکمل کرا لیتے تو اچھا تھا۔

خواجہ حارث نے کہا اس کے لیے تھوڑا وقت دے دیں۔ اس کے لیے ہمیں پھر بیٹھنا ہو گا۔ وقت چاہیے ہو گا۔ آج تفتیشی افسر پر جرح کر لیتے ہیں۔ جمعرات  کو میاں صاحب باقی بیان قلمبند کرا دیں گے۔ جج احتساب عدالت نے کہا کہ کوشش کریں گے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کے بیان کے لیے 70 سے 75 تک سوالات ہوں تاکہ اس کے بعد حتمی بحث شروع ہو جائے۔

تفتیشی افسر محمد کامران نے جرح کے دوران بتایا کہ تمام ریکارڈ کا باریک بینی سے جائزہ لے کر تفتیشی رپورٹ لکھی ہے۔ نیب ہیڈ کوارٹر سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی متفرق درخواستوں کی غیر تصدیق شدہ نقول بھی مانگی تھیں جو مجھے فراہم کی گئیں۔ جے آئی ٹی رپورٹ سمیت دیگر دستاویزات حاصل کی تھیں۔ تفتیش شروع کرنے سے پہلے حاصل ہونے والے تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ 11اگست 2017کو ایف بی آر کو خط لکھ کر ملزمان کا ٹیکس ریکارڈ مانگا تھا۔ یہ بات میرے علم میں تھی کہ نواز شریف کا ٹیکس ریکارڈ جے آئی ٹی رپورٹ کا حصہ تھا جو 1985سے99اور 2009 سے16تک کا ٹیکس ریکارڈ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ ٹیکس ریکارڈ نواز شریف نے خود جے آئی ٹی کو فراہم کیا یا ایف بی آر نے۔ ٹیکس ریکارڈ سے متعلق دستاویزات کی تصدیق کے لیے کسی جے آئی ٹی ممبر یا ایف بی آر کے حکام کو شامل تفتیش نہیں کیا۔

دوران تفتیش نوٹس میں آیا کہ کیپیٹل ایف زیڈ ای سے متعلق  دستاویزات جے آئی ٹی کو کسی ایم ایل اے کے جواب میں نہیں ملیں۔ یہ دستاویزات شہاب سلطان کی طرف سے لکھے خط کے ساتھ تھیں جو یو اے ای میں نوٹری پبلک سے تصدیق شدہ نہیں تھیں۔ تاہم ان پر جبل علی فری زون اتھارٹی کی مہر ضرور موجود تھی۔

میرے نوٹس میں آیا تھا کہ یو اے ای سے ملنے والی دستاویزات سکرین شاٹس کی صورت میں ہیں۔ یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ یہ سکرین شاٹس کس نے لیے تھے۔ عدالت نے نواز شریف کا بیان مکمل ریکارڈ کرانے کے لیے جمعرات تک مہلت دینے کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں