تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کا معاملہ، پنجاب اور کے پی نے رپورٹ جمع  کرا دی

اسلام آباد (پبلک نیوز) تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کے معاملے پر پنجاب اور خیبر پختوںخواہ سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کراد۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تعلیمی اداروں میں باآسانی منشیات ملتی ہیں، روکنا کس کا کام ہے؟  سوشل میڈیا پر بچیاں نشہ آور پاؤڈر سونگھتی نظر آتی ہیں، ان پولیس والوں کا کیا ہوا جو منشیات سپلائی کرتے ہیں؟ پنجاب پولیس کے نمائندے نے کہا کہ منشیات فروشی میں کوئی پولیس اہلکار ملوث نہیں۔

 

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں منشیات سپلائی کا معاملہ پر چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے منشیات فروشی سے متعلق ماہانہ رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا تھا۔

جس پر سندھ اور بلوچستان کی پولیس اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ایڈووکیٹ جنرلز سے تعاون نہ کرنے پر 10 روز میں جواب طلب کر لیا۔ ڈی آئی جی آپریشن لاہور کا کہنا تھا کہ لاہور میں 50 افراد کے خلاف مقدمات درج کر کے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان کے قبضہ سے بھاری مقدار میں منشیات پکڑی گئیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تعلیمی اداروں میں آسانی سے منشیات مل جاتی ہیں۔ اس کو روکنا کس کا کام ہے۔ سوشل میڈیا پر بچیاں نشہ آور پاؤڈر سونگھتی نظر آتی ہیں۔ ان پولیس والوں کا کیا ہوا جو منشیات سپلائی کرتے ہیں۔ محکمے کو کالی بھیڑوں سے پاک کریں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ منشا بم کا کیا بنا کیا اس سے اربوں کی جائیداد ریکور ہوئی۔ اس نے پولیس افسران کو گالیاں نکالی تھیں اس کا کیا بنا۔

نمائندہ پنجاب پولیس کا کہنا تھا کہ منشیات فروشی میں کوئی پولیس اہلکار ملوث نہیں ہے۔ منشا بم کے خلاف کیس چل رہا ہے اس میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ پکڑے گئے افراد تعلیمی اداروں کے ارد گرد منشیات فروحت کرتے تھے۔

منشیات پنجاب کے باہر سے لاہور لائی جاتی ہیں۔ اس حوالے سے ملکی سطح پر ہمیں تعاون درکار ہے۔ منشیات نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ نجی تقریبات اور پارٹیوں میں بھی استعمال ہورہی ہیں۔ پورٹ پنجاب میں منشیات فروشوں کی نشاندہی کے لیے اسپیشل برانچ کو متحرک کر دیا ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کل اس کیس کو لاہور میں سنیں گے۔

حارث افضل  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں