دعوے سے کہتا ہوں نیب میں سزا دلوانے کی شرح 70 فیصد ہے: چیئرمین نیب

اسلام آباد (پبلک نیوز) قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ مجھے بیشک برا بھلا کہتے رہیں میں جواب نہیں دوں گا۔ ادارے کو برا بھلا کہا گیا تو سربراہ کی حثیت سے جواب دیتا رہوں گا۔

نیب ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مجھے بیشک برا بھلا کہتے رہیں میں جواب نہیں دوں گا۔ ادارے کو برا بھلا کہا گیا تو سربراہ کی حثیت سے جواب دیتا رہوں گا۔ کہا گیا کہ نیب میں سزا دلوانے کی شرح 7 فیصد ہے۔

انھوں نے کہا کہ دعوے سے کہتا ہوں نیب میں سزا دلوانے کی شرح 70 فیصد ہے۔ اگر یہ بات غلط ثابت ہو تو خود ہی گھر چلا جاؤں گا۔ نیب کے وسائل اور بجٹ محدود ہے۔ جب بھی کسی حکومتی بندے کے خلاف کارروائی کی تو نیب کے بجٹ میں کٹ لگا دیا گیا۔ مشکل برداشت کرلیں گے مگر کسی کے ساتھ سمجھوتا نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ کرپٹ آدمی چاہے اقتدار میں ہو یا حزب اختلاف میں وہ جوابدہ ہے۔ کرپشن کے خاتمے میں نیب کا کردار کلیدی ہے۔ کسی شخص کا فیص نہیں دیکھا صرف کیس ریکھا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ نیب کے فیصلے معیشت پر نظرانداز ہو رہے ہیں۔ کہا گیا نیب کی وجہ سے بیوروکریٹس فیصلہ کرتے ہوئے گھبرا رہے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے واضح کیا کہ آج تک کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جس سے ملک کی معیشت کو نقصان ہونے کا اندیشہ بھی ہو۔ پانچ لاکھ کے منصوبے پر 50 کروڑ لگ جائیں تو اس سے متعلق پوچھنا جرم تو نہیں۔ نیب کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں