جمہوریت احتساب نہیں اپنے اعمال کی وجہ سے خطرے میں آتی ہے: چیئرمین نیب

اسلام آباد(پبلک نیوز) چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ نیب اور معیشت ساتھ چل سکتے ہیں نیب اور کرپشن ساتھ نہیں چل سکتے، کرپٹ عناصر کو پوچھنا کسی جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔ نیب ملکی مفاد میں ہر اقدام اٹھائے گا۔
 
 
چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کسی سے کوئی شکوہ ہے نہ کوئی شکایت، الزامات لگے لیکن کسی سے کوئی گلہ نہیں کیا، نہ جواب دیا، جانتا ہوں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں، نیب اور معیشت ساتھ چل سکتے ہیں نیب اور کرپشن ساتھ نہیں چل سکتے، ڈالر مہنگا ہونے میں نیب کا کیا کردار ہو سکتا ہے؟ گزشتہ 3دن سے صورتحال خراب ہو چکی، نیب نے ملکی معیشت کے خلاف کبھی کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔
 
 
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ نیب بزنس کمیونٹی کو تحفظ دیتا ہے، چیمبر آف کامرس میں جا کر نیب کا نقطہ نظر بیان کیا، کسی کاروباری شخص کو کبھی ہراساں کیا نہ ہی ارادہ ہے۔ کرپٹ عناصر کو پوچھنا کسی جرم کے زمرے میں نہیں آتا، موجودہ  معاشی صورتحال حکومتی نہیں، قومی بحران ہے، نیب معیشت کو تحفظ دے گا،5 ہزار کی جگہ 5 لاکھ خرچ ہوں گے تو کیا نیب نہیں پوچھے گا؟ معیشت پر سیاست کرنا ہمارے قومی مفاد میں نہیں، نیب ملکی مفاد میں ہر اقدام اٹھائے گا۔

 
جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا کہ اللے تللے کرنے والوں سے پوچھ لیا تو کیا غلط کیا؟ ارکان اسمبلی اور عوامی عہدہ رکھنے والے سے سوال کیا جا سکتا ہے، نیب کی وابستگی حکومت کے ساتھ نہیں بلکہ ریاست کے ساتھ ہے، ایف اے ٹی ایف نے ہمیں انتباہ جاری کر رکھا ہے، ایف اے ٹی ایف نے ملک کو گرے لسٹ میں ڈال رکھا ہے، نیب کسی سے ڈکٹیشن نہیں لے گا، گرے لسٹ سے پاکستان کو نکالنا ہو گا، فالودے اور چھابڑی والوں کے اکاؤنٹ سے کروڑوں نکلے اور نیب سوال نہ کرے؟ 
 
 
نیب ملکی مفاد کے لیے کوئی بھی قیمت ادا کرنے کو تیار ہے، بھاگنے والوں کو پتہ چل گیا تھا کہ اب کوئی راہ فرار نہیں، نیب کے پاس ثبوت نہ ہوتے تو لوگ ملک سے بھاگ نہ جاتے، جب کوئی گرفتاری ہوتی ہے تو اسمبلی اور پی اے سی اجلاس بلا لیا  جاتا ہے۔ صبح جاتے ہیں رات کو آتے ہیں سوال پوچھو تو کہتے ہیں نیند آرہی ہے۔ کاروباری افراد کو اگر کوئی شکایت ہے تو  فراہم کرے۔ شکایت کا ازالہ نہ کر سکا تو اپنی سیٹ چھوڑ دوں گا، جمہوریت احتساب نہیں اپنے اعمال کی وجہ سے خطرے میں آتی ہے۔ 
 
 
چیئرمین نیب نے مزید کہا کہ کاروباری افراد اور پبلک اکاؤنٹس ہولڈر میں فرق ہوتا ہے، نیب چیئرمین اپنے احتساب کے لیے سب کے سامنے ہے،19 سال نیب کو ادارہ بنانے کے لیے خرچ ہوتے تو حالات مختلف ہوتے، گزارش ہے نیب کے ریڈار پر لوگوں  کو عوامی عہدے نہ دیئے جائیں، حکومت کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہوتے تو بجٹ کا رونا روتے؟ منی لانڈرنگ میں اپنے گھر کی خواتین کو کیوں ملوث کیا جا تا ہے؟ اگر نیب ان سے سوال پوچھے تو اس میں قصور نیب کا نہیں اپنے گھر والوں کا ہے۔ نیب آزاد اور خو دمختار ادارہ ہے۔ نیب کا مقصد صرف پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ ہے۔ 
عطاء سبحانی  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں