حکومت فیصلہ کرے شہیدوں کے ساتھ ہے یا قاتلوں کے ساتھ: بلاول بھٹو

پبلک نیوز: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت فیصلہ کرے وہ شہیدوں کےساتھ ہے یا قاتلوں کے ساتھ۔ کب تک ملک دوغلی پالیسی پر چلاتے رہیں گے۔ ہم کب تک لاشیں دفناتے رہیں گے؟ ہم جب انصاف مانگتے ہیں توہمیں ملک دشمن کہا جاتا ہے۔

بلاول بھٹو کی کوئٹہ آمد ہوئی۔ جہاں انھوں نے سانحہ ہزارگنجی کے متاثرین سے تعزیت کی اور شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی۔ 4دن گزر گئے۔ وزیراعظم ابھی تک کوئٹہ نہیں آئے۔

حکومت پر تنقیدی نشتر برساتے ان کا کہنا تھا کہ قومی دھارے میں لانا ہے تو کالعدم تنظیموں کو نہیں دہشتگردی کے متاثرین کو لائیں۔حکومت کا سارا زور اپوزیشن کو دبانے پر ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت فیصلہ کرے وہ شہیدوں کے ساتھ ہے یا قاتلوں کے ساتھ۔ کب تک ملک دوغلی پالیسی پر چلاتے رہیں گے۔ ہم جب انصاف مانگتے ہیں تو ہمیں ملک دشمن کہا جاتا ہے۔ قومی دھارے میں لانا ہے تو کالعدم تنظیموں کو نہیں دہشتگردی کے متاثرین کو لائیں۔ وزیراعظم نے اب تک نیکٹا کا ایک بھی اجلاس طلب نہیں کیا۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ الیکشن سے پہلے ہی ہمیں پتہ تھا کچھ قوتیں کٹھ پتلی حکومت لانا چاہتی تھیں۔ حکومت کا ہروعدہ جھوٹا نکلا۔ ہروعدے پر یوٹرن لیا گیا۔ معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ حکومت کا سارا زور اپوزیشن کو دبانے پر ہے۔ سیاسی انتقام ہو گا تو کرپشن بڑھے گی اور معیشت کمزور ہو گی۔ پلی بارگین کا آپشن حکومت کے پسندیدہ چور کے لیے ہے۔ کراچی،لاہور،پشاور کے لیے ایک پالیسی ہونی چاہیے۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں