پارلیمنٹ نے کیسے برداشت کرلیا کہ کوئی دوسرا ادارہ ٹیکس لگائے: بلاول بھٹو

کراچی (پبلک نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ آئین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو لانگ مارچ بھی کر سکتے ہیں۔ وزیر اعظم تو شہباز شریف کی تنقید تک برداشت نہیں کر سکتے۔ حکومت کو اپنی سوچ بدلنا پڑے گی۔

 

کراچی پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے 18 ویں ترممم کے خاتمہ کی صورت میں حکومت کے خلاف پھرلانگ مارچ کا عندیہ دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مانتا ہوں ماسٹر پلان پر فوکس کرنا چاہیے۔ پرانے ماسٹر پلان کے بجائے نئے ماسٹرپلان پر کام کرنا چاہیے۔ ہمیں عوام نے مینڈیٹ دیا ہے، عوامی حکومت غریبوں کی دکانوں، گھروں کو نہیں توڑ سکتی، جب ایسا دیکھتا ہوں تومجھے دکھ ہوتا ہے۔

 

 

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ نے کیسے برداشت کرلیا کہ کوئی اور ادارہ عوام پر ٹیکس لگائے۔ چیئرمین پیپلزپارٹی نے بعض عدالتی فیصلوں کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ متضاد فیصلوں پر عوام سوال اٹھائیں گے، عدالتیں اتنا بڑا یوٹرن کیسے لے سکتی ہیں۔

 

انہوں نے میڈیا ورکز کے تحفظ کے لیے قانون لانے کا اعلان بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اظہار رائے کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنی ہے، میڈیا کے ساتھ کھڑے ہیں، قدم بڑھائیں مجھے اپنے ساتھ پائیں گے، اظہار آزادی کے لیے ہمیں پارلیمانی اورعدالتی فورم کواستعمال کرنا پڑے گا۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں