قوم کے معمار .... نقل کے تجربہ کار

نااہلی، بدنیتی یا بااثر مافیا، سندھ میں سندھ حکومت اور محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار نے لاکھ جتن کیے پر نقل نہ رک سکی، پہلے میٹرک کے امتحانات اور اب انٹر میں بھی نقل کا سلسلہ زور و شور سے جاری ہے کوئی بھی تعیلمی بورڈ اس لعنت کو ختم نہیں کرسکا۔

پرچہ اپنے وقت سے پہلے ہی آوٹ ہو کر واٹس ایپ گروپوں میں پہنچ جاتا ہے اور امتحانی سنٹروں کے اندر کھلے عام گائیڈ، موبائل فون اور کتابوں کا استعمال کرکہ نقل کی جاتی ہے۔ چند نمائشی کاروائیوں اور رسمی بیانات کے علاوہ اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس کاروائی نہیں ہوسکی۔

ایسا نظر آتا ہے کہ مستبقل کے معماروں کو سوچی سمجی سازش کے تحت محنت کی بجائے نقل کا عادی بنایا جاتا ہے۔ جب ایک صوبے میں صورتحال ایسی ہوگی تو نقل سے پاس ہونے والے اور نمبر لینے والے طالب علم جب اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم کے لیے جائیں گے اور پھر ذمہ دار عہدوں پر فائز ہوں گے تو انکی قابلیت کا اور کارکردگی کا آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں

احمد علی کیف  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں