میاں ثاقب نثار کے بطور چیف جسٹس 2 سال 18 دن

2 سال 18 دن تک چیف جسٹس رہنے والے میاں ثاقب ںثار نے کرپشن سے لے کر عوامی فلاح وبہبود تک تاریخی مقدمات سنے اور ان پر فیصلے دیئے۔ جعلی بنک اکاؤنٹس کیس، دہری شہریت، زیر زمین پانی کا استعمال، سکول کی فیسوں میں کمی، نقیب اللہ قتل کیس سمیت دیگر مقدمات کے فیصلوں کو خوب عوامی پذیرائی ملی۔

جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنی مدت ملازمت کے دوران کئی اہم مقدمات اور ازخود نوٹسز نمٹائے۔ پانامہ لیکس کیس سننے والے بینچ سے خود کو الگ کرکے شاندار مثال قائم کی۔

اکتیس دسمبر 2016 کو عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی مقدمہ پانامہ لیکس پر بینچ تشکیل دیا۔

اپنی مدت کے دوران 29 ازخود نوٹسز لیے۔ پہلا نوٹس شاہزیب قتل کیس کے ملزم شاہ رخ جتوئی کی رہائی پر تھا۔ جسٹس ثاقب نثار نے بیرون ملک پاکستانیوں کے بنک اکاؤنٹس اور جائیدادوں، ججز اور سرکاری افسران کی دوہری شہریت، سرکاری گاڑیوں کا ذاتی استعمال، وکلا کی جعلی ڈگریوں، بڑھتی ہوئی آبادی، پینے کے پانی کی قلت، زیر زمین پانی کے کمرشل استعمال، لاہور میں بل بورڈزہٹانے، ہسپتالوں میں سہولتوں کے فقدان اور سرکاری ہسپتالوں میں کمی، قصور میں نھنی زنیب کے قتل اور آرمی پبلک سکول انکوائری کمیشن پر ازخود نوٹس لیے۔

نوازشریف کی تاحیات نااہلی، مسلم لیگ ن کی صدارت سے ہٹانے کا کیس، عمران خان اور شیخ رشید اہلیت، جہانگیر ترین، سینیٹر ہارون اختر اور سینیٹر سعدیہ عباسی کی نااہلی سمیت جعلی بینک اکاؤنٹس سے متعلق مقدمہ ان کیسز میں اہم ریمارکس اور فیصلے جسٹس ثاقب نثار کی وجہ شہرت بنے۔

نقیب اللہ محسود قتل کیس اور اس میں سابق ایس پی راؤ انوار کی طلبی سے متعلق مقدمہ کو خوب عوامی پذیرائی ملی۔ ڈی پی او پاک پتن کیس میں موجودہ حکمران کی طلبی کا سہرا بھی جسٹس ثاقب نثار کو جاتا ہے۔

کراچی میں ہسپتالوں کی حالت زار اور تھر میں غذائی قلت سے متعلق مقدموں میں جسٹس ثاقب نثار نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو بھی طلب کیا۔

جسٹس ثاقب نثار اعلیٰ عدلیہ کے ان ججوں میں شامل ہیں جنہوں نے 2007 میں سابق صدر پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے بعد عبوری آئینی حکم نامہ کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا۔

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں