چیف جسٹس آف پاکستان نے جعلی شناختی کارڈ کا اجراء جرم قرار دے دیا

اسلام آباد(جمشید خان) جعلی شناختی کارڈ کا اجراء جرم قرار دے دیا گیا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ جعلی شناختی کارڈ دہشت گردی اور منی لانڈرنگ میں استعمال ہو سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے جعلی شناختی کارڈ اجراء کے ملزمان کی بریت کیخلاف نیب اپیلیں مسترد کر دی۔

 

چیف جسٹس آف پاکستان نے جعلی شناختی کارڈ کا اجراء جرم قرار دے دیا، جعلی شناختی کارڈ اجراء کے ملزمان کی بریت کیخلاف نیب اپیلوں کی سماعت، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جعلی شناختی کارڈ کا اجراء بہت بڑا جرم ہے، جعلی شناختی کارڈ دہشت گردی اور منی لانڈرنگ میں استعمال ہو سکتے ہیں، دستاویزات کی فوٹو کاپی قابل قبول شواہد نہیں ہوتی۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیب کی ذمہ داری تھی کہ جعلی شناختی کارڈ کے جرم اور فراڈ کو ثابت کرتی۔ احتساب عدالت نے ملزموں کا سات قید با مشقت کی سزا سنائی تھی، جسے بلوچستان ہائی کورٹ نے کلعدم قرار دے کر ملزمان کو بری کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بھی بلوچستان ہائیکورٹ کا ملزمان کی بریت کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نیب کی اپیلیں مسترد کر دیں۔

عطاء سبحانی  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں