معاملہ سیٹل کرناچاہتاہوں:ملک ریاض،ایک ہزارارب جمع کرادیں: چیف جسٹس

اسلام آباد(پبلک نیوز) جعلی اکاؤنٹس کیس میں بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض بھی سپریم کورٹ پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا ملک صاحب آپ کا نام ہر جگہ کیوں آ جاتا ہے؟ ملک ریاض بولے میں معاملہ سیٹل کرنا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ہزار ارب جمع کرا دیں۔

 

جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں ملک ریاض بھی سپریم کورٹ پیش ہوئے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ملک ریاض کدھر ہیں؟ کیا وہ آئے ہیں؟ جس پر ملک ریاض بولے کہ جی میں حاضر ہوں!! چیف جسٹس نے کہا ملک صاحب ہر جگہ آپ کو نام کیوں آجاتا ہے؟ ملک ریاض نے کہا کہ پاکستان میں کام کر رہا ہوں نام تو آئے گا۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ بھی تو انہیں کے ساتھ کام کرتے ہیں جن کے اس کیس میں نام آئے ہیں۔ کراچی میں آپ جو کر رہے ہیں وہ جائز ہے؟ ملک ریاض نے کہا کہ میں سب کچھ سیٹل کرنا چاہتا ہوں، آپ حکم کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ملک صاحب آپ کو کہا تھا ایک ہزار ارب جمع کرا دیں معاملات نمٹا دیتے ہیں۔

 

ملک ریاض نے کہا کہ اتنا تو میں نے 22 سال میں نہیں کمایا، چیف جسٹس نے کہا کہ چلیں پھر 500 ارب دے دیں۔ زندگی گزارنے کے لیے کتنے ارب چاہئیں؟ وہ رکھ لیں باقی دے دیں۔ آپ نے اربوں کی جائیداد بنائی ہیں۔ ملک ریاض بولے کہ میری جائیداد چاہیے تو لے لیں۔ شکر کریں پاکستان میں 70 منزلہ عمارت بنائی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ باغ ابن قاسم کی زمین پر عمارت بنا ڈالی۔

 

ملک ریاض نے کہا کہ میں نے ڈاکٹر ڈنشا سے خریدی، آئیکون کا پلاٹ 2005 میں پرویز مشرف کی حکومت میں لیا۔ بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے کہا کہ 1980 اور 2005 میں آصف زرداری نہیں تھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 1980 میں ملک ریاض بھی کہاں تھے۔ چیف جسٹس نے ملک ریاض سے کہا کہ آپ حکومتیں بناتے اور گراتے رہے ہیں۔ ملک سے لوٹا ہوا مال واپس کر دیں۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ نیب کو بھجوا دیتے ہیں، نیب ملک ریاض سے تحقیقات کرے گا۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں