کراچی میں بچوں کی ہلاکت کا معاملہ، پبلک نیوز ریستوران مالک کو پہلی بار سکرین پر لے آیا

کراچی (پبلک نیوز) شہر قائد میں دو معصوم بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دارکون تعین نہ ہو سکا۔ ڈی جی فرانزک پنجاب کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی ہلاکت کا تعین نہیں ہو سکتا۔ دوسری جانب پبلک نیوز پہلی مرتبہ ریسٹورنٹ کے مالک کو اپنی اسکرین پر لے آیا۔

مضر صحت غذا کا معاملہ یا ہے کچھ اور، پبلک نیوزسب کچھ منظرعام پرلے آیا۔ ہفتے کے دن کتنے لوگ ریسٹورنٹ آئے۔ متاثرہ فیملی نے کیا آرڈر کیا، سب کچھ پبلک ہو گیا۔ پہلی مرتبہ ریسٹورنٹ کا مالک کسی بھی ٹی وی اسکرین پر پبلک نیوز لے آیا۔

ایریزوناگرل ریسٹورنٹ کے مالک کا کہنا ہے ہفتہ کے دن 200لوگوں نے لنچ اور ڈنر کیا۔ اسپیشل فوڈ اسٹیک کے اس دن 62آرڈر آئے۔ متاثرہ فیملی نے میکسیکن اسٹیک،چکن ایپی ٹائزر، سافٹ ڈرنک اور منرل واٹر کا آرڈر کیا۔

ریسٹورنٹ مالک ندیم راجہ نے بتایا کہ دوماہ قبل نوٹس دیئے جانے کی اطلاعات بالکل غلط ہیں۔ سندھ فوڈ اتھارٹی نے ریسٹورنٹ سے جو سیمپل لیے ان کی رسید تک نہ دی گئی۔

دوسری جانب ڈی جی فرانزک پنجاب نے بچوں کی ہلاکت میں کسی بھی قسم کے زہر کی نشاندہی نہ ہونے کی تصدیق کر دی۔ ڈاکٹر طاہراشرف کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے نمونے نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کی ہلاکت کا تعین نہیں ہو سکتا۔ فوڈ سیملپز سے پانچ سے چھ قسم کے زہر کو چیک کیا گیا۔ کھانے کے نمونوں کا تجزیہ فرانزک لیب کا مینڈیٹ نہیں۔

ریسٹورنٹ کے مالک ندیم راجا نے بڑے اطیمنان سے کہا کہ زائد المیعاد اسٹاک تو ایک طرف پڑا تھا۔ اس پر لکھا تھا کہ اسے استعمال نہیں کرنا۔ ہم نے بین الاقوامی معیار کے مطابق زائد المیعاد چیزوں کو اپنے اسٹاک سے الگ کیا۔ گوشت کسی اور مقصد کے لیے درآمد کیا تھا، لیکن وہ استعمال نہیں ہوا۔

احمد علی کیف  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں