لوگوں نے ہزاروں جائیدادیں باہر بنا لیں، ایف بی آر کی ہمدردی انھی کیساتھ ہے: چیف جسٹس

اسلام آباد (پبلک نیوز) سپریم کورٹ میں غیرملکی اکاؤنٹس اور جائیداد سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے لوگوں نے ہزاروں جائیدادیں باہر بنا لی ہیں۔ عجب بات ہے کہ چیئرمین ایف بی آر کی ہمدردی بھی انہی کے ساتھ ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے چئیرمین ایف بی آر اور ممبر انکم ٹیکس سے علیمہ خان کی غیر ملکی جائیداد کے معاملے میں پیشرفت سے متعلق پوچھا تو ایف بی آر نے رپورٹ جمع کرا دی۔

چیف جسٹس نے کارروائی کا سوال کیا تو ممبر انکم ٹیکس نے بتایا کہ علیمہ خان کے خلاف لاہور میں کارروائی کا آغاز کردیا ہے۔ چئیرمین ایف بی آر نے انہیں بتایا کہ ابتدائی معلومات حاصل کر لی گئی ہیں۔ تحقیقات فیلڈ افسران نے ہی کرنی ہیں۔

ممبر انکم ٹیکس نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ بیس افراد سے متعلق تیزی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ آف شور اکاونٹس سے متعلق خصوصی زون قائم کر دئیے ہیں۔ چیف جسٹس نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد سے متعلق پوچھا تو ممبر انکم ٹیکس نے بتایا کہ آڈٹ کی پاور فیلڈ افسروں کے پاس ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ایف آئی اے نے تحقیق کر دی مگر چئیرمین ایف بی آر نے اسے سرد خانے میں ڈال دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لوگوں نے ہزاروں جائیدادیں باہر بنا لیں۔ ایف بی آر کی ہمدردی انھی لوگوں کے ساتھ ہیں۔ ایف بی آر سے تفصیلی رپورٹ بارہ دسمبر تک طلب کرلی گئی ہے۔ کیس کی سماعت اب 13 دسمبر  کو ہو گی۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں