سپریم کورٹ: وزیر اطلاعات  کا بیان غیرذمہ دارانہ قرار، اعظم سواتی سے اثاثوں کی تفصیلات طلب

اسلام آباد (پبلک نیوز) چیف جسٹس نے آئی جی تبادلہ کیس میں ریمارکس دیئے کہ وفاقی وزیر اطلاعات  نےغیرذمہ درانہ بیان دیا۔ کہا گیا سپریم کورٹ آئی جی کو نہیں ہٹا سکتی، یہ سپریم کورٹ ہی تھی جس نے آئین کے تحت وزیراعظم کو گھر بھیجا۔ عدالت نے اعظم سواتی سے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔آئندہ سماعت پر متاثرہ خاندان  کوبھی بلا لیا

چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں آئی جی اسلام آباد تبادلہ کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس  نے وفاقی وزیر اعظم سواتی سے مکالمہ کے دوران ریمارکس دیئے کہ آپ نے عورتوں سمیت خاندان کو سلاخوں کے پیچھے بھجوا دیا۔ کیا وہ آپ کی طاقت کے لوگ ہیں، ان کے گھر تین دن سے چولھے نہیں جلے۔

چیف جسٹس نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اعظم سواتی کے گھر گائے گھسنے پر کون سی قیامت آ گئی۔ یہ ہیں صادق اور امین لوگ؟ دیکھیں گے آرٹیکل 62 ون ایف کا کہاں اطلاق ہوتا ہے۔ کیس کی تفتیش کے لیے جے آئی ٹی بنائیں گے۔

عدالت  نے اعظم سواتی سے اثاثوں کی تفصیل طلب کر لیں۔ متاثرہ خاندان کی درخواست کی صورت میں اعظم سواتی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم بھی دیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی وزیر اطلاعات  نےغیرذمہ درانہ بیان دیا۔ ایسا کون سا آتش فشاں پھٹ گیا تھا کہ راتوں رات تبادلہ کر دیا گیا۔ کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم چیف ایگزیکٹو ہیں۔

فواد چودھری نے مؤقف اپنایا کہ بیوروکریسی کے مسائل آ رہے ہیں۔ عدلیہ کے بارے بیان کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ عدالت نے فواد چودھری کی وضاحت تسلیم کر لی۔ وفاقی وزیر نے حکومت آئین کے تحت چلنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

عدالت نے سماعت جمعہ تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی اور متاثرہ خاندان کو بھی طلب کر لیا۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں