طیفی بٹ قبضہ کیس؛ سول عدالت دو ماہ میں فیصلہ کرے، چیف جسٹس

لاہور (ادریس شیخ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے طیفی بٹ کے قبضہ کیس میں سول عدالت کو دو ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا، عدالتی حکم پر طیفی بٹ سپریم کورٹ میں پیش ہوا، پولیس کو دھمکانے اور سپریم کورٹ بارے متنازع الفاظ استعمال کرنے پر دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں طیفی بٹ کے جائیداد پر قبضہ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے سول عدالت کو دو  ماہ میں کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالتی حکم پر طیفی بٹ عدالت میں پیش ہوئے۔

ایس پی معاذ نے کہا کہ اسلم مجید نے ڈپٹی سیکرٹری سیٹل مینٹ کو فون پر دھمکایا۔ چیف جسٹس نے طیفی بٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ طیفی بٹ یہ عزت کرتے ہو عدالتوں کی۔ عدالت کی جانب سے طیفی بٹ کے وکیل پر بھی اظہار برہمی دیکھنے میں آیا۔

پولیس کو دھمکانے اور سپریم کورٹ کے بارے متنازع الفاظ استعمال کرنے والے دو افراد سپریم کورٹ سے گرفتار کر لیے گئے۔ ایس پی معاذ کا کہنا تھا کہ اسلم مجید نامی شخص نے کہا چیف جسٹس نے 17 جنوری کو ریٹائر ہو جانا ہے۔ اسلم مجید اور عبدالوحید نے کہا یہ سارے سو موٹو نوٹس ختم ہو جائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ان دونوں نے عدالتی کاروائی میں مداخلت کی ہے۔ عدلیہ کی تضحیک نہیں ہونے دیں گے۔ ان کی پیروی اس حد تک کریں جس حد تک کر سکتے ہیں۔ عدالتوں کو کمزور نہ کریں۔ عدالتوں کو مضبوط کریں۔ ایک دن طیفی بٹ نے نہیں رہنا۔

احمد علی کیف  8 ماه پہلے

متعلقہ خبریں