"کیوں نہ عوام سے وصول کیے گئے 14 ارب بحریہ ٹاؤن سے واپس لیے جائیں"

اسلام آباد (پبلک نیوز) سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن میں الاٹمنٹ لیٹر کے ذریعہ پلاٹس کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے کہا ہے کہ کیوں نہ عوام سے وصول کئے گئے 14 ارب روپے بحریہ ٹاؤن سے واپس لئے جائیں۔ سپریم کورٹ نے ڈی ایچ اے کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے پلاٹ ٹرانسفر فیس کی تفصیلات طلب کر لی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بحریہ ٹاؤن پلاٹس ٹرانسفر کیس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ بحریہ ٹاون ایک ڈویلپر ہے تو وہ پلاٹ ٹرانسفر لیٹر سے کس طرح ٹرانسفر کرتا ہے؟ پلاٹ کا ٹرانسفر کی بجائے رجسٹری ہونی چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ اربوں روپے کے تو بحریہ ٹاون پر چارجز بنتے ہیں۔ اتنا پیسہ کدھر چلا گیا؟ پلاٹ کاٹرانسفر سیل ڈیڈ کی ذریعے ہو گا، بحریہ ٹاون صرف الاٹمنٹ لیٹر ایشو کر دیتا ہے جوریاست کیساتھ فراڈ ہے۔ بحریہ ٹاون نے ٹرانسفر فیس کی مد میں 14 ارب روپے الاٹیز سے اکھٹے کیے ہیں،کیوں نہ بحریہ ٹاون کو نوٹس دیکر یہ رقم وصول کی جائے۔

بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وہ قانون کے مطابق ادائیگی کیلئے تیار ہیں۔ جسٹس اعجازلاحسن نے استفسار کیا کہ سیل ڈیڈ کے بغیر پلاٹس ٹرانسفر ہو سکتے ہیں؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اج تک الاٹمنٹ لیٹر کے زریعے جو ٹرانسفر ہوئے وہ غیر قانونی ہیں۔ اج تک بحریہ ٹاون نے الاٹمنٹ کی مد میں جو کیا وہ قانون کی خلاف ورزی ہے۔ ۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ڈی ایچ اے میں بھی پلاٹس کے تبادلے اس میکنزم کے تحت ہوتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ڈی ایچ اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے پلاٹ ٹرانسفر فیس کی تفصیلات طلب کر لی ہیں ۔ چیف جسٹس کہتے ہیں سب کیلئے ایک قانون ہونا چاہئے۔ بحریہ ٹاؤن کے وکیل نے کہا کہ ہاوسنگ سوسا ئٹیز کا فرانزک آڈٹ مکمل ہونے دیں تفصیلات فراہم کر دینگے، رجسٹری کی فیس تو پلاٹ خریدنے والے نے دینی ہے۔

عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر پلاٹ کی الاٹمنٹ سیل ڈیڈ کے ذریعہ ہو گی تو اطلاق سب پر ہو گا۔ کیس کی مزید سماعت 13 دسمبر کو ہو گی۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں