پارلیمنٹ، انتظامیہ کو انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمہ داری لینا ہو گی: چیف جسٹس

اسلام آباد(امجد بھٹی) سستا اور فوری انصاف ریاست کی ذمہ داری ہے، چیف جسٹس نے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کا شعبہ پارلیمنٹ کی ترجیحات میں ہونا چاہیئے، ججز کو ڈو مور کا نہیں کہہ سکتے۔

 

جوڈیشل اکیڈمی اسلام آباد میں فوری فراہمیِ انصاف کے عنوان سے کانفرنس، چیف جسٹس کا اہم ترین خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گزشتہ چند دہائیوں سے انصاف کی فوری فراہمی پر توجہ نہیں دی گئی۔ جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کے لیے سفارشات اور ترامیم پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی گئیں۔ پارلیمنٹ اور انتظامیہ کو بھی عدلیہ کی طرح انصاف کے شعبے میں بہتری کی ذمہ داری لینا ہوگی۔ چیف جسٹس نے انتظامیہ اور پولیس کی ذمہ داری بتا دی، انہوں نے کہا کہ انتظامیہ ملزمان کو اور پولیس گواہوں کو پیش کرنے کی ذمہ دار ہے۔ مقدمات پر سماعت مکمل کرنے کی مدت مقرر کرنے کا عندیہ بھی دے دیا۔

 

جسٹس کھوسہ نے بتایا کہ فوری انصاف کے لیے مقدمات کی رپورٹس پیش کرنا ضروری، مقدمے میں کسی وجہ سے استغاثہ کے پیش نہ ہونے پر متبادل انتظام کیا جائے گا اور اگر کسی وجہ سے وکیل پیش نہ ہوا تو جونیئر مقرر کیا جائے گا۔ عدالت عظمیٰ کے مقابلے میں برطانوی اور امریکی سپریم کورٹس میں سالانہ نمٹائے جانے والی مقدمات کی تعداد بہت ہی کم ہے، مقدمات کا التواء ختم کرنے کے لیے بھی ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔ ملکی قوانین میں انسانی حقوق کو مدنظر رکھا جاتا ہے، عدالتی قوانین واضح ہیں انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں