لاہور میں دو ہفتوں کے دوران 10 خواتین ظلم کا شکار ہوئیں، رپورٹ

لاہور (دعا مرزا) 6ماہ میں 19.5فیصد عورتیں تشددکا نشانہ بنیں۔ لاہور میں دو ہفتوں کے دوران دس خواتین ظلم کا شکار ہوئیں۔ بیشتر واقعات میں رشتہ دارخواتین پر ظلم ڈھانے میں آگے۔ کمیشن برائے حقوق نسواں پنجاب کے اعدادوشمار سامنے آ گئے۔

تفصیلات کے مطابق گھریلو ناچاقی پر تشدد یا نام نہاد غیرت پر قتل، گذشتہ دو ہفتوں میں لاہور کی دس خواتین ظلم و بربریت کا نشا نہ بنیں۔ کمیشن برائے حقوق نسواں پنجاب کی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات سامنےآ گئے۔

خواتین پر تشدد کے واقعات میں روز بروز اضافہ لمحہ فکریہ ہے۔ کمیشن برائے حقوق نسواں پنجاب کے مطابق چھ ماہ میں انیس اعشاریہ پانچ فیصد عورتیں تشدد کا نشانہ بنیں۔

اعداد و شمار ایک طرف، صرف لاہور میں دو ہفتوں کے دوران دس خواتین، کسی نہ کسی صورت جبر کا شکار ہوئیں، بیشتر واقعات میں قریبی رشتہ دار ہی ظلم ڈھانے میں ملوث نکلے۔

بارہ مارچ کو تھانہ مانگا منڈی کی حدود میں شوہر نے تیز دھار آلے سے بیوی کو قتل کر دیا۔ 13 مارچ کو سندر میں طالبعلم نے چھری کے وار کر کے سکول پرنسپل کو قتل اور استانی کو زخمی کر دیا۔ 14 مارچ کو شوہر، دیور اور ساس نے مبینہ طور پر آگ لگا کر 35 سالہ نسرین کی جان لے لی۔

15 مارچ کو ملتان چونگی میں خاوند نے اہلیہ کی زندگی چھین لی۔ 19 مارچ کو شاہدرہ میں گھریلو ناچاقی پر سسرالیوں نے بہو کے سر کے بال کاٹ دئیے۔ 23 مارچ کو بھائی نے دو بہنوں پر کلہاڑے سے وار کیا۔ ایک جاں بحق جبکہ دوسری زخمی ہوئی۔

27 مارچ کو ڈیفنس میں شوہر نے بیوی کے بال کاٹ دئیے جبکہ اسی دن دوسری جگہ جہیز کم لانے پر حوا کی بیٹی تشدد کا نشانہ بنی۔

محکمہ داخلہ نے 21 فروری کو پنجاب اسمبلی میں رپورٹ جمع کرائی کہ ضلع لاہور میں گزشتہ ششماہی کے دوران غیرت کے نام پر کل 6 مقدمات درج کروائے گئے لیکن کسی ایک پر بھی کارروائی مکمل نہ ہوئی۔

احمد علی کیف  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں