وفاقی وزیر غلام سرور کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری

اسلام آباد (پبلک نیوز) نوازشریف کے زیرالتوا کیس پر بیان  دینے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی وزیر غلام سرور کو بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ وفاقی وزیر جھوٹی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کا کیسے کہہ سکتا ہے۔

 

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے وفاقی وزیرغلام سرورکے خلاف توہین عدالت سے متعلق درخواست پرسماعت کی۔ درخواست گزارنے موقف اپنایا کہ وفاقی وزیرنے نوازشریف کی رہائی ڈیل کا حصہ قراردیا اور زیرسماعت کیس پراثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ اس موقع پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان کو روسٹرم پربلا لیا۔ ریمارکس دیئے کہ ایک وفاقی وزیر جھوٹی میڈیکل رپورٹ پیش کرنے کا کیسے کہہ سکتا ہے۔

 

حکومت اپنے میڈیکل بورڈ سے متعلق ایسی بات کررہی ہے کیا حکومت خود اداروں پرعدم اعتماد کا اظہارکر رہی ہے؟ جس پر معاون خصوصی  فردوس عاشق نے موقف اپنایا کہ وفاقی وزیرغلام سرور کا بیان ان کی ذاتی رائے ہوسکتی ہے حکومتی پالیسی نہیں۔ معاملہ وزیراعظم کے نوٹس میں لایا جائے گا۔

 

چیف جسٹس اطہر من اللہ  نے ریمارکس دیئے جب زیر سماعت کیسز پر بات کریں گے تو اثر تمام سائلین پر آئے گا۔ حکومت نے عوام کا اداروں پراعتماد بحال کرنا ہے۔ عدالت نے وفاقی وزیر غلام سرور کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے۔ 14 نومبرتک جواب طلب کرلیا۔

 

فردوس عاشق اعوان کے توہین عدالت نوٹس کی سماعت بھی اسی روز رکھنے کی ہدایت کی۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات  فردوس عاشق اعوان نے پھر غیرمشروط معافی مانگتے ہوئے دونوں نوٹس نتھی نہ کرنے کی استدعا کی۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے کہ فردوس عاشق اعوان نے سرکاری سطح پر پریس کانفرنس کی غلام سرور خان نے بھی بیان دیا کیس اکٹھا سنیں گے۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں