رافیل ایئرکرافٹ ڈیل مودی سرکار کے گلے کی ہڈی بن گئی

پبلک نیوز: رافیل طیاروں کی ڈیل میں کمیشن کس نے کھایا، بھارتی حکومت طیاروں کی ڈیل کے معاملے میں اپوزیشن کے سوالوں کے جواب نہ دے سکا۔

تفصیلات کے مطابق رافیل ایئرکرافٹ ڈیل مودی کے گلے کی ہڈی بن چکی ہے۔ کانگریس رہنما "رندیپ سُرجے والا" نے مودی حکومت پر سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔ کانگریس رہنما نے جو ڈیل ہمارے وقت میں سستے میں ہوئی تھی وہ اب تین گنا مہنگی ہوئی ہے۔

رندیپ سرجے والا نے سوال اٹھایا کہ ہمارے دور میں ایک جہاز کی قیمت  تقریباً 526 کروڑ روپے تھی، جبکہ مودی سرکار وہی جہاز 1570 کروڑ میں خرید رہی ہے۔ کیوں؟

انھوں نے سوال کیا کہ فرانس کی ڈسالٹ ایوی ایشن نے نومبر 2017 میں قطر کو تقریباً694 کروڑ روپے فی طیارہ کے حساب12 رافیل طیارے  دئیے۔ کیا وجہ ہے کہ قطر کو بیچے جانے والے رافیل طیارے کی قیمت بھارت کو بیچے جانے طیاروں کی نسبت 100 فیصدکم ہے؟

مودی سرکار نے  ڈیل کرتے ہوئے ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو پیچھے کیوں دھکیلا جبکہ ڈسالٹ ایوی ایشن اور ہندوستان ایروناٹکس میں 2014 کو مل کر کام کرنے کا معاہدہ ہوا تھا۔ ایک نجی کمپنی کو فائدہ دینے کے لیے بھارت کی ماہر کمپنی کو پیچھے کیوں کیا گیا؟

بی جے پی کانگریس کے چبھتے ہوئے سوالوں کا جواب دینے سے گریزاں ہے۔

حارث افضل  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں