عدالت نے بچوں کے اغواء،گمشدگی مقدمات سے متعلق پولیس رپورٹس کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا

کراچی (پبلک نیوز) سندھ ہائیکورٹ نے شہر کراچی میں گزشتہ سال بچوں کے اغواء اور گمشدگی کیس میں بچوں کی بازیابی سے متعلق پولیس رپورٹس کو غیر تسلی بخش قرار دے دیا،عدالت نے 15 نومبر تک لاپتا بچوں کو بازیاب کراکر رپوٹس پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے پولیس حکام سے پیش رپورٹ طلب کر لی۔

 

والدین نے درخواست میں موقف پیش کیا کہ بچے شہر کے علاقوں سے اغواء کیے گئے، بچوں کی عمریں ڈھائی سے 14سال ہیں۔ گمشدہ بچوں میں کبری، مسلم جان، رابعہ، گل شیر، ابراہیم جاوید، بوچا، عدنان محمد، منزہ، نور فاطمہ، صائمہ، عبدالواحد، محمد حنیف، ثانیہ، سہیل خان بھی گمشدہ بچوں میں شامل ہیں۔ بچوں کی گمشدگی کو سنگین جرم قرار دینے اور بچوں کی بازیابی کے لیے میکنزم بنانے کا حکم دینے کی استداعا کردی گئی۔

 

 پولیس نے رپورٹ میں بتایا کہ لاپتہ بچوں کے معاملے آئی جی سندھ نے سینئر افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے، کمیٹی میں اے وی سی سی، اے سی ایل سی، انوسٹی گیشن اور دیگر افسران شامل ہیں۔ کمیٹی کے 6 اجلاس ہو چکے ہیں، کمیٹی دیگر صوبوں کی پولیس سے رابطہ کرکے بچوں کی بازیابی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ اخبارات میں اشتہارات کے زریعے بچے بازیاب ہوئے۔ بازیاب بچوں کو کسی نے اغواء کیا تھا یا وہ خود گئے تھے معلوم نہیں ہو سکا۔ نئے کیسز میں پیش رفت ہوئی ہے کہ بچے بازیاب کرالیے ہیں۔

 

عدالت نے بچوں کی بازیابی سے متعلق پولیس رپورٹس کو غیر تسلی بخش قرار دے دے دیا۔ جسٹس نعمت اللہ نے ریمارکس دئیے کہ بچوں کی بازیابی سے متعلق پولیس کے کارکردگی غیر سنجیدہ ہے۔ ہم چاہتے ہیں، جن کے بچے لاپتا ہے انہیں فوری بازیاب کرایا جائے۔ عدالت نے 15 نومبر تک لاپتا بچوں کو بازیاب کراکررپوٹس پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں