عدالت کا بورڈ آف ریونیو کو کھوکھر برادران کی اراضی کی نشاندہی کا حکم

لاہور(پبلک نیوز) سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں کھوکھر برادران کے ناجائز قبضوں کیخلاف از خود نوٹس کی سماعت، عدالت نے اینٹی کرپشن، بورڈ آف ریونیو، ایل ڈی اے اور پولیس پر مشتمل ٹیم تشکیل دے دی۔

 

کھوکھر برادران کے ناجائز قبضوں کیخلاف از خود نوٹس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے از خود نوٹس پر سماعت کی۔ عدالت نے تمام جائیدادوں کے رقبے، خسرہ جات کی تفصیلات 7 روز میں طلب کر لیں۔ عدالت نے اینٹی کرپشن، بورڈ آف ریونیو، ایل ڈی اے اور پولیس پر مشتمل ٹیم تشکیل دے دی۔

 

عدالت ریمارکس دیئے کہ مشترکہ ٹیم کھوکھر برادران کے قبضوں میں ملوث ہونے کی رپورٹ بھی پیش کرے، عدالت کا کھوکھر برادران کے زیر قبضہ قصور میں 48 ایکڑ زرعی اراضی سمیت 500 ایکڑ اراضی واگزار کرنے کا بھی حکم دے دیا عدالت نے زرعی زمین پر کھڑی فصلوں کو تباہ نہ کرنے کا حکم دے دیا۔

 

چیف جسٹس پاکستان استفسار کیا کہ ٹھوکر نیاز سکیم میں 1977ء کے بعد زمین کیسے کنسالیڈیٹ ہو گئی؟ پتہ کیا جائے 40 کنال والے کھوکھر پیلس کی زمین کھوکھر برادران کی ملکیت ہے یا نہیں؟ 1977ء کے بعد زمین کیسے کنسالیڈیٹ ہو گئی؟ کیا کھوکھر برادران کی رہائشگاہوں کے نقشے پاس کروائے گئے ہیں؟

 


عدالت کی جانب سے ایل ڈی اے اور ٹی ایم اے سے مکمل رپورٹ طلب کر لی گئی، جس پر ڈی جی اینٹی کرپش کا کہنا تھا کہ کھوکھر برادران کی جائیدادوں کی تفصیلات اکٹھی کرنے میں وقت لگے گا۔ بورڈ آف ریونیو کے حکام کو 1977ء میں تعینات پٹواری اور دیگر افسروں کے نام یاد نہیں ہیں۔ کھوکھر برادران کے نام ای سی ایل میں شامل کیے جائیں۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ای سی ایل کی بات کر رہے ہیں، دنیا کے اچھے ممالک میں کڑا پہنا دیا جاتا ہے۔اوہ مسٹر سیف عزت بہت بڑی چیز ہے۔ عزت پیسے سے نہیں آتی، عزت لوگوں کی زمینوں پر قبضوں سے نہیں آتی۔ عزت لوگوں کر ڈرا دھمکا کر نہیں آتی، عزت خدمت کر کے آتی ہے۔ چیف جسٹس پاکستان نے سیف الملوک کھوکھر سے استفسار کیا، بتاؤ وہاں کوئی خیراتی ہسپتال کھولو گے؟ جس پر ایم پی اے سیف نے دیا جی کھولوں گا۔

 

ایس پی علی عدالت کو بتایا کہ شفیع کھوکھر نے کیمپ میں 48 ایکڑ اراضی پر قبضے کا اعتراف کیا تھا، اب انکار کر رہا ہے،جس پر جیف جسٹس نے شفیع کھوکھر مخاطب کرتے ہوئے سامنے آنے کو کہا اور اس حوالے سے پوچھا، شفیع کھوکھر نے کہا کہ میرے پاس 25 ایکڑ زمین تھی بعد میں مزید خریدی تھی۔ شروع سے اس زمین کو کاشت کر رہے ہیں۔ قصور میں 500 ایکڑ زمین ہے جس پر متعدد لوگوں کا قبضہ ہے۔500 ایکڑ اراضی کا کیس بورڈ آف ریونیو میں چل رہا ہے۔

 

چیف جسٹس نے بورڈ آف ریوینو کا حکم دیا کہ بورڈ آف ریوینو میں فیصلے ہوتے رہیں گے، قصور والی اراضی کا فوری قبضہ لے لیا جائے۔ زرعی اراضی پر کھڑی فصلوں کو نقصان نہ پہنچایا جائے، جس پر شفیع کھوکھر کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ قصور کی اراضی خریدے میں کوئی بدنیتی شامل نہیں تھی۔

 

جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آپ کی کوئی نیک نیت نہیں تھی، ریاست کیساتھ دھوکہ کر کے زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ بورڈ آف ریونیو ہو کھوکھر برادران کی اراضی کی نشاندہی کا حکم دے دیا، ایڈووکیٹ احسن بھون نے استدعا کی افضل کھوکھر کیخلاف گزشتہ روز مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے تک کیلئے گرفتار کرنے سے روکا جائے۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ آپکو قانون کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے، قاضی کی نشست پر بیٹھے ہمیں ایم این اے اور ایم پی اے نظر نہیں آتا۔ یہ لوگ ریاست کا حق مار رہے ہیں۔ جو کچھ انہوں نے لیا واپس کر دیں، معافی کا خانہ کسی بھی وقت موجود ہوتا ہے۔

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں