سپریم کورٹ: تھر میں سہولیات کی فراہمی سے متعلق کمیشن تشکیل دینے کا حکم

اسلام آباد(پبلک نیوز) تھر میں غذائی قلت کے باعث بچوں کی اموات پر ازخود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے سیشن جج تھرپارکر کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے اسٹیٹ بینک سے تھر کے رہائشیوں کے واجب الادا زرعی قرضوں کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

 

جسٹس اعجازِ الااحسن کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے کمیٹی رپورٹ پیش کردی۔ عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ گزشتہ پانچ سال میں یہ پانچویں رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ اصل مسئلہ رپورٹ پر عملدرآمد کا ہے۔ تھر کے ہسپتالوں کا کوئی پرسان حال نہیں، سندھ حکومت کے وکیل نے عدالت کو تھر میں تعیناتی کے لئے ڈاکٹرز کو خصوصی مراعات کا بتایا تو عدالت نے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت اتنے بھاری معاوضے دیئے جارہے ہیں؟

 

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ سندھ حکومت تفصیلات بتائے کتنے ڈاکٹرز کو تھر بھیجا گیا اور ان ڈاکٹرز نے انکار کیا، انہوں نے سوال کیا کہ تھر جانے سے انکار کرنے والے ڈاکٹرز کیخلاف کیا کارروائی کی گئی۔ کلرک حکم عدولی کرے تو اسے نوکری سے نکالنے کی دھمکی دے دی جاتی ہے۔ عدالت نے تھر میں ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی تعیناتیوں سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کرلیں۔

 

عدالت کا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج تھر پارکر کی سربراہی میں کمیشن کی تشکیل کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ کمیشن تھر میں خوراک، پانی سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی سے متعلق پندرہ دنوں میں جائزہ لیکر رپورٹ پیش کرے، اسٹیٹ بنک سے تھر کے رہائشیوں کے واجب الادا زرعی قرضوں کی تفصیلات طلب کرلیں ۔ کیس کی سماعت اب آئندہ ہفتے ہو گی۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں