پاکستانی لیگ اسپنر شاداب خان کو سستے دندان سے علاج کرانا مہنگا پڑ گیا

پبلک نیوز: شاداب خان کو خطرناک وائرس کیسے منتقل ہوا؟ اس راز سے پردہ اٹھ گیا۔ لیگ اسپنر شاداب خان کو سستے دندان ساز سے دانت کا علاج کروانا مہنگا پڑگیا۔ غیرمعیاری آلات کے باعث ہیپاٹائٹس سی کا وائرس منتقل ہوا اور لیگ اسپنر دورہ انگلینڈ سے باہر ہو گئے۔ ورلڈ کپ میں شمولیت بھی خطرے میں پڑ گئی۔

 

لیگ اسپنر شاداب خان کی بیماری سے متعلق حیران کن انکشاف سامنے آیا۔ ذرائع کے مطابق ٹیسٹ کرکٹر نے دانت میں تکلیف کے بعد ایک عام دندان ساز سے علاج کرایا۔ ڈینٹسٹ کے آلات سے شاداب خان کے خون میں ہیپاٹائٹس سی کے وائرس کی تشخیص ہوئی۔

 

ذرائع کا کہنا ہے کہ شاداب خان نے بتایا کہ انہوں نے چند دنوں قبل دانت میں تکلیف کے بعد پنڈی میں ایک دندان ساز سے رجوع کیا تھا جس کے آلات سے وائرس نے حملہ کیا۔

 

حیران کن بات یہ ہے کہ شاداب خان کا پی سی بی سے سینٹرل کنٹریکٹ ہے اور سینٹرل کنٹریکٹ میں یہ بات خاص طور پر بتائی جاتی ہے کہ کھلاڑی پی سی بی کے منظور شدہ اور بتائے ہوئے ڈاکٹروں سے ہی علاج کرائیں تاکہ ڈاکٹر کوئی ایسی دوا نہ دے دے جو قوت بخش ادویات کے زمرے میں آتی ہو۔ شاداب خان کے کیس میں بھی لاپرواہی کا عنصر نمایاں ہے۔

 

20 سالہ شاداب خان لندن میں چیک اپ کروانے کے بعد وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ پی سی بی حکام کے مطابق دو ہفتے میں اگر شاداب خان کو کمزوری محسوس نہ ہوئی تو وہ ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کر سکتے ہیں۔

حارث افضل  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں